تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 648
تاریخ احمدیت۔جلد 23 648 سال 1966ء 25 بھائیوں کی دن رات ایک کر کے مثالی خدمت کی۔کیمپ کمانڈنٹ کی حیثیت سے آپ روزانہ افسران بالا کے پاس کار کردگی کی رپورٹ بھجواتے تھے۔آپ کو اکثر دواڑھائی بجے رات تک کام کرنا پڑا۔جس سے آپ کی صحت پر بہت ناگوار اثر پڑا۔لائکپور کے ڈپٹی کمشنر آغا عبدالحمید صاحب نے آپ کی خدمات کو خراج تحسین ادا کیا۔اور اس سلسلے میں خوشنودی کی ایک چٹھی بھی بھجوائی۔حضرت شیخ محمد مبارک اسمعیل صاحب نے اپنی خود نوشت سوانح حیات ( یہ سوانح غیر مطبوعہ ہے جوان کے بیٹے شیخ خالد پرویز صاحب مقیم شہزاد سٹریٹ بھمبر روڈ گجرات کے پاس تھی جواب ”شعبہ تاریخ احمدیت ربوہ میں محفوظ ہے۔) میں اپنے زمانہ تعلیم کے دوران قیام قادیان کے بعض واقعات قلمبند کئے ہیں۔تحریر فرماتے ہیں:۔اس زمانہ میں قادیان میں برادرانہ اخوت کا زور تھا استاد طلبہ سے محبت کا سلوک کرتے۔چھوٹا بھائی سمجھتے تھے۔احمدی ایک دوسرے کو بھائی کے لفظ سے پکارتے۔سکول میں طلباء اساتذہ کو بھی بھائی جی کے لقب سے یاد کرتے۔نماز روزہ کی سخت پابندی تھی۔جبر نہیں بلکہ شوق پیدا ہو گیا تھا۔حضرت مسیح موعود سیر کو جایا کرتے تھے۔کبھی کھارے کی طرف کبھی کسی اور طرف یہ برکت کا زمانہ تھا۔حضرت ہر روز صبح گھر سے چلتے۔چند خدام ساتھ ہوتے۔راستہ میں مسئلہ مسائل اسلام کا تذکرہ ہوتا۔مولویوں کی مخالفت کا چرچا تھا۔بعض عقیدتمند باہر سے تشریف لاتے تو اس سیر میں حضرت اقدس سے ملتے تو اپنا ماجرا سناتے۔یا اگر کوئی مخالف مولوی یا سیاح آتا تو وہ اس وقت گفتگو کرتا۔نئے نئے سوالات پیش ہوتے۔حضرت منہ کے سامنے رومال رکھتے اور جواب دیتے جاتے۔راستہ میں خدام کی تعداد بڑھ جاتی تھی۔حضرت خلیفہ اول گھر سے نکلتے مگر (کبھی) تھک کر راستہ میں بیٹھ جاتے اور واپسی پر پھر ملتے مگر پیچھے ہی رہ جاتے۔حضرت کی گفتگو کا وہ لطف آتا تھا کہ اب اس عمر میں لکھتے وقت بھی محسوس ہو رہا ہے۔راستہ میں کئی بار کسی کا پاؤں حضرت اقدس کے عصا پر پڑتا اور گر جاتا آپ پیچھے مڑ کر کبھی نہ دیکھتے بلکہ ایک سیکنڈ کے لئے کھڑے ہو جاتے اور عصا پھر آپ کے ہاتھ میں دے دیا جاتا۔واپسی پر راستہ میں کبھی میاں مبارک احمد مرحوم مٹی سے بھرے ہوئے ملتے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے حضرت انہیں پیار کرتے اور ساتھ لے جاتے۔ایک دفعہ میاں مبارک کا قصہ حضرت نے سیر کے وقت سنایا کہ مبارک احمد نے اپنی ٹھیکریاں کھیلنے والی میرے کوٹ میں ڈال دیں جب کوٹ پہنا تو بوجھ معلوم ہوا۔ہاتھ ڈالا تو روڑے نکلے۔جو میاں مبارک نے ڈالے تھے۔66