تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 646
تاریخ احمدیت۔جلد 23 646 سال 1966ء دلاور شاہ صاحب بخاری اور سیکرٹری آپ تھے۔ہر ممبر پر احمدیت کی اشاعت کا ایک جنون تھا۔انہی ایام میں آپ کے پرانے ہم جماعت حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب ایف اے کا پرائیویٹ امتحان دینے کے لئے لاہور آئے۔اور آپ کے پاس ٹھہرے۔اور باوجود امتحانی دباؤ کے خواب میں تبلیغی لیکچر شروع کر دیا۔آپ نے سید عبد القادر صاحب ایم اے ( سابق پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور ) کو جگایا۔سید عبدالقادر اس حالت کا مشاہدہ کر کے حیران رہ گئے۔اور بے اختیار ہو کر کہنے لگے کہ آپ کی جماعت اعلیٰ درجے کی پراپیگنڈہ کرنے والی ہے حتی کہ سوئے ہوئے بھی اشاعت کا کام نہیں چھوڑتی۔سید ولی اللہ شاہ صاحب خواب میں یہ فرمارہے تھے کہ مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لے آؤ! کیونکہ دنیا پر سینکڑوں نشانات کے علاوہ آسمان پر سورج اور چاند بھی گواہی دے رہے ہیں۔سید عبدالقادر صاحب کہا کرتے تھے کہ مولوی مبارک اسمعیل کو اشاعت احمدیت کا سودا (MANIA) ہے۔حضرت شیخ صاحب بیان فرماتے ہیں:۔”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شالا مار کے میلے پر جس میں بے شمار لوگ شامل ہوتے ہیں میرے چھوٹے بھائی شیخ محمد اسحاق ملے پر چلے گئے۔والد مرحوم نے کہا کہ کہیں گم نہ ہو جائے۔اسے ڈھونڈ کر لے آؤ۔میں نے ان کے حکم کی تعمیل کی روانہ ہونے پر والد صاحب سے کچھ رقم راستے کے خرچ کے لئے لینا بھول گیا۔میری جیب میں صرف ایک ادھنی ( دو پیسے کا سکہ ) تھی جو بالکل ناکافی تھی۔پریشانی حد سے زیادہ ہوگئی۔خدا پر توکل کر کے سفر جاری رکھا۔اور دعا کرتا چلا گیا۔شمالا مار باغ کے پہلے طبقے میں میں نے دیکھا کہ تبلیغ عیسائیت کے لئے کیمپ لگا ہوا تھا۔اور پادری ٹامس ہاول تقریر کر رہے تھے میں چند منٹ کے لئے وہاں ٹھہر گیا۔اور وعظ سنتا رہا۔کفارہ ، تثلیث پر وعظ کر رہے تھے۔وعظ کے بعد انہوں نے سامعین کو کہا کہ جو صاحب اعتراض کرنا چاہتے ہیں۔بڑی خوشی سے کریں۔مجھے سخت پریشانی تھی۔ایک تو چھوٹے بھائی کی تلاش کی فکر دوسری طرف رڈ عیسائیت کا جوش تھا۔اُس وقت یہی فیصلہ کیا کہ اس دینی کام کو سرانجام دیا جائے۔پادری صاحب نے مجھے کم عمر سمجھ کر اعتراضات کی اجازت دے دی۔میں غالباً ایف اے کا طالب علم تھا۔میں نے کلمہ شریف پڑھ کر اس لہجہ میں تقریر کی کہ اُس جگہ جمع ہونے والے مسلمان دوستوں نے اُسے بڑا پسند کیا۔اور مجھے وہ جگہ چھوڑنے سے منع کیا۔میں نے معذرت کی مجھے بھائی کی تلاش ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اسلامی مورچہ ہے آپ تھوڑی دیر اور ٹھہریں۔اسے چھوڑ نا مناسب نہیں۔ہم تو پادری