تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 645
تاریخ احمدیت۔جلد 23 645 سال 1966ء علیہ السلام بھی اُن سے خاص محبت رکھتے تھے جب یہ دونوں حضور کی ملاقات کے لئے جاتے اور دروازے پر دستک دیتے تو یہ معلوم کر کے کہ آپ کو شیخ مولا بخش لاہوری ملنے کے لئے آئے ہیں تو آپ فوراً دروازے پر آجاتے۔حضرت صوفی محمد علی صاحب بھی ریلوے ایگزامینر آفس میں تھے۔جس طرح یہ دونوں عمر میں ایک دوسرے کے ساتھ کندھا بہ کندھا ہو کر رہتے تھے اسی طرح ان کے صاحبزادے ریٹائرڈ ڈی۔ایس۔پی مجھ سے بہت محبت رکھتے تھے۔ہم دونوں جماعت اوّل سے لے کر میٹرک تک اکٹھے پڑھتے رہے۔یہ دونوں بزرگ ہماری تربیت کے لئے ہر مقام پر ہمیں اپنے ساتھ رکھتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ماہ دسمبر میں سالانہ جلسہ قادیان کے موقعہ پر ہم سہ پہر کی گاڑی لاہور سے روانہ ہوئے اور رات کے بارہ بجے بٹالہ پہنچے۔ہماری روانگی لا ہوری قافلہ کی صورت میں تھی۔رات کے وقت چونکہ یکوں کا ملنا مشکل تھا۔اس لئے فیصلہ یہ ہوا کہ کارواں جو ۳۰،۲۵ افراد پر مشتمل تھا۔بٹالہ سے قادیان تک پیدل سفر کرے۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا زمانہ تھا اور مخالفت ہر طرف سے زوروں پر تھی۔اس لئے ہر احمدی کو اپنے اپنے حلقے میں بعض علماء کی شرانگیزی کی بناء پر سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔اس لئے قافلہ کے سرکردہ لوگ اپنے اپنے تجربات و مشاہدات باری باری بیان کرتے چلے جاتے تھے۔اس قافلے کے ساتھ غالبا خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم تھے۔اپنے اپنے خیالات سنانے سے ایک تو قافلہ کی دلچسپی بڑھی تھی دوسرا رات کے وقت سفر کٹ جاتا تھا۔میں اور صوفی محمد رفیع صاحب کمسن تھے۔اس لئے بار بار تھک جاتے تھے۔اور یہ دونوں بزرگ ہمیں باری باری کندھوں پر اُٹھا لیتے تھے۔دوسرے دن صبح نماز کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات کرنی ہوتی تھی۔ہم دونوں کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ مسیح موعود علیہ السلام کا تبرک کھائیں۔چنانچہ ایک دومرتبہ ایسے موقعوں پر ڈبل روٹی اور دودھ کا تبرک ہمیں ملا۔جو ہم نے بعد میں شوق سے کھایا۔حضور کی صبح کی سیر کے وقت بھی ہم شامل ہوتے تھے۔اگر چہ ہم کئی بار تھک جاتے تھے مگر تھوڑی دیر پیچھے رہ کر دو تین منٹ آرام کر کے پھر شامل ہو جایا کرتے تھے۔حضرت شیخ مبارک اسماعیل صاحب نے ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی سکول شیرانوالہ گیٹ لاہور میں حاصل کی۔احمدیت کے اس ابتدائی دور میں شدید مخالفت تھی اور احمدی طلبہ کو تبلیغ کا خوب موقعہ ملتا تھا۔اس زمانہ میں احمدی طلبہ نے لاہور میں سینگ مین ایسوسی ایشن قائم کر رکھی تھی ، جس کے صدر سید 166