تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 640
تاریخ احمدیت۔جلد 23 640 سال 1966ء کا خیال تھا کہ شاید آپ اپنا سر پیٹ لیں گے۔مگر ان کے صبر نے سب کو حیران کر دیا۔رشتہ داروں اور گاؤں کے لوگوں نے اندر ہی اندر آپ کی مخالفت شروع کر دی۔مگر آپ اتنے بارعب، نڈر اور بہادر تھے کہ کسی کو کھلے بندوں آپ کی مخالفت کی جرات نہ ہوئی۔آپ نے آہستہ آہستہ لوگوں کو احمدیت کا پیغام دینا شروع کر دیا۔آپ کی کوششوں سے گاؤں کا ایک زمیندار احمدی ہو گیا۔اس کے رشتہ داروں نے کھل کر تو اس کی مخالفت نہ کی مگر ایک رات چپکے سے اسے قتل کر دیا۔یہ واقعہ بھی نانا جان کے لئے بڑا اندوہناک تھا۔ایک طرف دوست کی شہادت دوسری طرف اس کے بیوی بچوں کا بوجھ تیسرے لوگوں کی مخالفت۔آپ نے بڑے صبر و استقلال اور خندہ پیشانی سے حالات پر قابو پایا اپنے دوست کی جائیداد اور گھر کا انتظام سنبھال لیا۔اس کے کمسن بچے کی حفاظت کا ذمہ لے لیا۔آخر وہ لڑکا جوان ہوا۔تو آپ نے خود کسی احمدی گھرانے میں اس کی شادی کی۔اور پھر جائیداد کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں دے دی۔آپ ہر سال جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان جاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کرتے۔حضور کے پاس بیٹھتے ، باتیں سنتے۔کئی دفعہ آپ کو حضور کی محفل میں بیٹھ کر کھانا کھانے کا شرف بھی حاصل ہوا۔موضع پیر کوٹ میں آپ کے سسرال کی رہائش تھی۔وہ سب کے سب احمدیت قبول کر چکے تھے۔اس لئے آپ اپنے آبائی گاؤں کو چھوڑ کر اپنے سسرالی گاؤں پیرکوٹ میں آباد ہو گئے تھے۔آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ صحابہ میں ہوئی۔اولاد آپ کی نرینہ اولاد نہیں تھی۔صرف دو بیٹیاں تھیں۔بڑی بیٹی زینب بی بی اہلیہ الحاج میاں پیر محمد صاحب آف مانگٹ اونچے۔ان کے پانچ بیٹوں میں سے دو بیٹے واقف زندگی تھے۔۱) حاجی محمد شریف صاحب سابق اکاؤنٹنٹ جامعہ احمد یہ ربوہ۔ان کے ایک بیٹے مکرم وسیم احمد ظفر صاحب مربی سلسلہ برازیل ہیں۔(۲) محمد صادق صاحب مرحوم ریٹائر ڈ اکاؤنٹسٹ وکالت تبشیر تحریک جدید ربوہ۔ان کے ایک بیٹے محمدمحمود طاہر صاحب مربی سلسلہ نظارت اشاعت ہیں۔چھوٹی بیٹی حسین بی بی صاحبہ اہلیہ میاں امام الدین صاحب گوندل۔ان کے ایک بیٹے نعمت اللہ شمس صاحب کا رکن صدر انجمن احمد یہ رہے ہیں۔ایک پوتا مکرم محمد نصیر اللہ صاحب اور تین نوا سے مکرم فخر الاسلام صاحب، مکرم نیر الاسلام صاحب اور مکرم شاہد محمود بدر صاحب مربیان سلسلہ ہیں۔