تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 639
تاریخ احمدیت۔جلد 23 639 سال 1966ء تربیت یافتہ نیک اور متقی ، ریاء اور لغویات سے مبرا، عفت شعار اور حیاء کے پتلے ،اپنے کاروبار میں ماہر اور اس میں مگن لیکن دیندار اور پر ہیز گار۔باپ بیٹے کی کوششوں کے نتیجے میں جموں اور سری نگر میں فرنیچر کا سب سے بڑا کارخانہ قائم ہوا۔سلسلہ کے متعدد بزرگ اور مبلغ اوائل میں جموں اور بعد ازاں سری نگر میں اُن کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے۔احمدی احباب اور مبلغین کی بے لوث خدمت کرنا اُن کا شعار رہا۔تبلیغ سلسلہ اور اشاعت دین کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔اسی کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے انہیں دین و دنیا کی نعمتوں سے مالا مال کر دیا۔اولاد امتہ الحی صاحبہ ( بیگم میاں محمد ابراہیم صاحب جمونی سابق ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول ومجاہد مر یکہ ) امتہ المجید صاحبہ ( بیگم ڈاکٹر بشیر احمد صاحب بٹ آف کنڈیارو) امتہ الحمید صاحبہ ( بیگم غلام حسین صاحب قمر بلوچ) عبدالماجد صاحب عبدالرشید صاحب ( آپ ۱۹۴۷ء میں جموں کے ہنگامہ میں شہید ہو گئے ) عبدالمجید صاحب عبدالسلام صاحب عبد الحلیم صاحب (سرکاری ڈیوٹی کے دوران عراق میں ایک حادثہ کا شکار ہوئے ) عبدالشکور صاحب ) حضرت میاں فتح الدین صاحب آف پیرکوٹ ولادت: ۱۸۷۵ء | بیعت: جولائی ۱۹۰۳ء وفات: ۲۶ جنوری ۱۹۶۶ء جناب مولوی سلطان احمد صاحب فاضل پیر کوٹی کے پھوپھا تھے۔قبول احمدیت کے بعد آپ کو زبر دست ابتلاء سے دو چار ہونا پڑا مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ نے صدق وصفا کا وہی مثالی نمونہ پیش کیا۔جو خداوالوں کا شعار ہے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جب آپ بیعت کر نے قادیان تشریف لے گئے تو آپ کی عدم موجودگی میں آپ کا اکلوتا بیٹا ایک دن بیمار رہ کر اچانک اپنے خدا کو پیارا ہو گیا۔آپ نے واپس آکر جب بیٹے کی وفات کی خبر سنی تو اُف تک نہ کی۔وہ وقت آپ کے لئے بڑی آزمائش کا تھا۔آپ رضائے الہی پر راضی ہو گئے رشتہ داروں اور گاؤں کے دیگر لوگوں