تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 622
تاریخ احمدیت۔جلد23 622 بیرون سے شرکت کرنے والوں کی تعدا دا کیس تھی۔163- سال 1966ء سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس مقدس رُوحانی اجتماع کے لئے حسب ذیل رُوح پرور پیغام عنایت فرمایا۔جو سید داؤ د احمد صاحب ناظر خدمت درویشاں نے افتتاحی اجلاس میں پڑھ کر سنایا۔" بسم الله الرحمن الرحيم " نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھوالناصر عزیز از جان قابلِ صدر شک و احترام بھائیو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبركاته آج آپ قادیان کی اس مقدس بستی میں اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ اپنے رب کے حضور جھکیں اور عاجزانہ دعائیں کریں کہ وہ غلبہ اسلام واحمدیت کے متعلق اپنے وعدوں کو جلد اور ہماری زندگیوں ہی میں پورا کر دے اور ہماری غفلتیں اور کوتاہیاں اس میں تاخیر کا باعث نہ بنیں۔وہ خود ہی اپنے فضل سے ہمیں اس بات کی توفیق عطا کرے کہ ہم اپنی تمام طاقت اور پوری توجہ اور انتہائی فدائیت اور ایثار اور صدق وصفا کے ساتھ اس کی راہوں پر چلنے کے قابل ہو جائیں اور اس کی رضا کو حاصل کر لیں اور اس کی نگاہ میں اس بات کے مستحق ٹھہریں کہ ہمارا محبوب رب ہماری زندگیوں ہی میں وہ بشارتیں پوری کردے جن کا وعدہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے اس کی برگزیدہ جماعت کو دیا گیا ہے۔دوسری غرض آپ کے یہاں جمع ہونے کی یہ ہے کہ خدا اور اس کے رسول کی باتیں اس نیت کے ساتھ سنیں کہ اُسوہ رسول کو اپناتے ہوئے شریعت اسلامیہ کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالیں گے۔پس ان مبارک گھڑیوں کا کوئی لمحہ بھی ضائع نہ کریں۔دُعاؤں۔ذکر الہی۔نیکی کی باتیں سننے سنانے سے اپنے اوقات کو معمور رکھیں تاہمارا پیارا رب ہماری جھولیوں کو اپنے فضل ، اپنی رحمت، اپنی رضا سے کچھ اس طرح بھر دے کہ ہماری روح سیر ہو جائے۔نور السموات والارض اپنے نور میں ہمیں کچھ اس طرح لپیٹ لے کہ کوئی شیطانی