تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 618 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 618

تاریخ احمدیت۔جلد 23 618 سال 1966ء سکیم تیار کی اور آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا چنانچہ انہوں نے کرائے کے وہ قاتل اس غرض کے لئے بھیجے۔جو آپ کے پاس اس انداز سے آئے گویا وہ بیعت کرنا چاہتے تھے۔آپ حسب معمول ان کو تبلیغ کرتے ہوئے شام کے وقت اپنے گھر لے آئے۔ان کی خاطر مدارت کی نمازیں باجماعت ادا کیں پھر فجر کی نماز پر آپ نے خود پانی گرم کر کے ان کو وضو کر وایا اور انہیں نماز پڑھائی اور نماز کے بعد انہیں باہر اپنے باغ میں لے آئے۔وہاں کچھ دیر چار پائیوں پر بیٹھے رہے اور ان کو تبلیغ کی۔پھر ان کو لے کر باغ کی سیر کروانے چلے گئے۔آپ کے پوتے مقصود احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے چچا یعقوب صاحب نے ان سے کہا کہ پتہ تو کرو، کافی دیر ہوگئی ہے، آئے نہیں۔وہ کہتے ہیں میں جب باغ میں گیا تو میں نے دیکھا ہمارا وہ مہمان جو مولوی عبدالحق صاحب کے ساتھ باغ میں گیا تھا بھاگ رہا ہے۔مجھے شک پڑا تو میں نے اپنے چچا کو بھی آواز دی کہ ادھر آئیں۔پھر ہم باغ میں اِدھر اُدھر دیکھنے لگے۔دادا جان کو دیکھا تو وہ شہید کر دئیے گئے تھے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔شہید مرحوم موصی تھے۔ایک سال تک کر ونڈی میں امانتاً دفن رہے پھر ربوہ میں بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔برطانوی سائنسدان ڈاکٹر کیون میکوئن ربوہ میں 156- ڈرہم یونیورسٹی انگلستان کے ڈاکٹر کیون میکوئن گذشتہ ایک سال سے انگلستان ، جاپان ، اور ہندوستان کے زیر انتظام ریسرچ کے ایک منصوبے پر کام کر رہے تھے۔انہوں نے میسور میں سونے کی کانوں کے اندر دس ہزار فٹ کی گہرائی میں کا سمک ریز کے ایک ذرہ نیوٹر مینو (NEUTRINO) ر ایک سال تک تحقیق کی۔ازاں بعد امریکہ کی لوزیانا سٹیٹ یونیورسٹی LOUISIANA) (STATE UNIVERSITY نے سائنسی تحقیق کے سلسلہ میں ان کی خدمات حاصل کر لیں۔اور اب وہ امریکہ جاتے ہوئے پاکستان آئے تو جماعت احمدیہ کے عالمی مرکز ربوہ کی شہرت انہیں ۲۷ دسمبر ۱۹۶۶ء کی رات کور بودہ کھینچ لائی۔یہاں آپ نے اگلے روز پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے( کینٹب ) پر نسل تعلیم الاسلام کالج محترم ڈاکٹر نصیر احمد خان صاحب صدر شعبہ طبیعات ،ڈاکٹر سلطان محمود صاحب شاہد صدر شعبہ کیمیا، پروفیسر سید حبیب الرحمن صاحب کی معیت میں تعلیم الاسلام کالج کی لیبارٹریز کا بھی معائنہ کیا۔