تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 617 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 617

تاریخ احمدیت۔جلد 23 617 سال 1966ء مصافحہ بخشا۔حضور نے صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جن میں حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب، حضرت حاجی محمد فاضل صاحب ، حضرت خدا بخش صاحب مومن جی اور حضرت محمد بوٹا صاحب موذن بھی شامل تھے۔ان کی خیریت دریافت فرمائی۔نصف گھنٹہ تک احباب کو شرف مصافحہ بخشنے کے بعد حضور انور قصر خلافت تشریف لے گئے۔155 مکرم مولوی عبدالحق نور صاحب کی شہادت آپ مورخہ ۲۱ دسمبر ۱۹۶۶ء کو کرونڈی ضلع خیر پور میں شہید کر دیئے گئے۔آپ قادیان کے قریب ایک گاؤں ”بھٹیاں گوت“ کے رہنے والے تھے۔آپ کے والد مکرم الہی بخش صاحب ایک معروف زمیندار تھے اور ہندو، سکھ اور مسلمان سب آپ سے اپنے معاملات کے فیصلے کرواتے تھے۔آپ نے چار سال تک بطور ہیڈ ماسٹر ملازمت کر کے ملازمت کو خیر باد کہہ دیا۔لمبی سوچ بچار اور دعاؤں کے بعد ۱۹۳۴ء کے جلسہ سالانہ پر بیعت کی۔بیعت کرنے کے فوراً بعد ہی آپ کی مخالفت شروع ہوگئی۔آپ نے مخالف مولوی کو دعوت مباہلہ دی جس کی تحریر لکھی گئی جس میں آپ نے تحریر کیا اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سچے ہیں تو سب سے پہلے مخالف مولوی کا بیٹا مرے گا اور اس کے بعد وہ خود بھی مرجائے گا“۔- چنانچہ مولوی محمد اسماعیل جس کے ساتھ آپ نے مباہلہ کیا تھا مر گیا۔یہ اطلاع آپ کے بھائی نے دی۔آپ نے جوش میں آکر کہا کہ تحریر مباہلہ میں تو تھا اس کا بیٹا پہلے فوت ہوگا۔جا کر پتہ کرو کہ اس کا بیٹا فوت ہوا کہ نہیں۔چنانچہ پتہ کرنے سے معلوم ہوا کہ پہلے مولوی مذکور کا بیٹا فوت ہوا تھا اور پھر وہ مرا۔اس واقعہ کو دیکھ کر آپ کے بھائی نے بھی بیعت کر لی۔زمیندارہ کا وسیع تجربہ ہونے کی وجہ سے آپ کو تقسیم ہند کے بعد محمود آباد، ناصر آباد اور دوسری اسٹیٹس میں کام کی نگرانی پر مقرر کیا گیا ۱۹۴۲ء میں آپ کرونڈی منتقل ہو گئے اور زمینوں کے ٹھیکے وغیرہ لینے شروع کئے۔آپ بہترین داعی الی اللہ تھے۔آپ کی تبلیغ سے آپ کے رشتہ داروں میں سے پچاس کے قریب احمدی ہوئے۔کرونڈی جماعت کی داغ بیل آپ نے ہی ڈالی۔شہادت کے وقت تک کرونڈی جماعت کے صدر رہے۔واقعہ شہادت: دسمبر ۱۹۶۶ء کی بات ہے کہ بعض متعصب اور شر پسند عناصر نے آپ کے خلاف