تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 616 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 616

تاریخ احمدیت۔جلد 23 616 سال 1966ء سلسلہ صبح ہی سے شروع ہو گیا۔حضور نے صبح دس بجے سے ایک بجے تک ملاقات کا موقع عطا فرمایا۔نیز حرم حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس دن صبح دس بجے احمد یہ ہال میں خواتین کے اجلاس عام میں شرکت فرمائی اور انہیں سادہ زندگی۔اطاعت امام اور تربیت اولا داور تعلیم قرآن کی طرف دلنشین انداز میں توجہ دلائی۔حضور کے قیام کے دوران خواتین قیام گاہ پر پہنچ کر محترمہ بیگم صاحبہ کی نصائح سے مستفید ہوتی رہیں۔تین بجے حضور تیز گام سے لاہور جانے کے لئے اسٹیشن روانہ ہوئے۔حضور کے ہمراہ کاروں کی ایک لمبی قطار تھی۔جماعت کی بہت بڑی تعداد اسٹیشن پر اپنے پیارے امام کو الوداع کہنے کے لئے جمع تھی۔حضور نے اپنی نشست گاہ اور سامان کا معائنہ فرمایا، پھر گاڑی سے باہر تشریف آئے۔چونکہ وقت تھوڑا تھا اور ہجوم زیادہ اس لئے جماعت کی درخواست پر حضور نے اجتماعی دعا کرائی۔دعا کے بعد حضور نے گاڑی کے دروازے پر کھڑے ہو کر جماعت کراچی کو محبت بھری نگاہ سے رخصت فرمایا اور گاڑی لاہور کے لئے روانہ ہوگئی۔لاہور اور پھر ربوہ تشریف آوری حضور ۲۶ نومبر کو کراچی سے بذریعہ تیز گام روانہ ہو کر ۲۷ نومبر کو لاہور پہنچ گئے۔اور اسی روز لاہور سے بذریعہ موٹر کار روانہ ہو کر ساڑھے چار بجے شام اللہ تعالیٰ کے فضل سے بخیر وعافیت ربوہ تشریف لے آئے۔یہ اطلاع ملنے پر کہ حضور آج ۴ بجے سہ پہر کے بعد ر بوہ تشریف لا رہے ہیں۔اہل ربوہ جوق در جوق نماز عصر سے پہلے ہی مسجد مبارک میں آجمع ہوئے اور نماز ادا کرنے کے بعد لاریوں کے اڈہ سے قصر خلافت تک قطار در قطار حضور کی تشریف آوری کے انتظار میں ایستادہ ہو گئے۔لوگ دیدہ و دل فرش راہ کئے حضور کی زیارت اور استقبال کی سعادت حاصل کرنے کے لئے چشم براہ تھے۔جملہ انتظامات محترم امیر صاحب مقامی کی ہدایات کے تحت مجلس خدام الاحمد یہ ربوہ نے کئے۔چالیس کے قریب سائیکل سوار چنیوٹ سے ربوہ تک متعین کر دیئے گئے۔جو نہی حضور کی کار دور سے آتی ہوئی نظر آئی تمام فضا اھلا و سھلا مرحبا۔نعرہ تکبیر اللہ اکبر۔حضرت امیر المؤمنین زندہ باد کے پر جوش نعروں سے گونج اٹھی۔موٹر کار کے رکتے ہی محترم مولانا ابوالعطاء صاحب اور مکرم مولوی محمد صدیق صاحب صدر عمومی نے آگے بڑھ کر حضور کا استقبال کیا اور مصافحہ کا شرف حاصل کیا۔بعد ازاں حضور پیدل چل کے احباب کی قطاروں کی طرف تشریف لائے اور قطار در قطار کھڑے ہوئے ہزاروں احباب کو شرف