تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 613
تاریخ احمدیت۔جلد 23 613 سال 1966ء نصب کی۔اس کے بعد حضور نے حاضرین سمیت لمبی دعا فرمائی۔پھر مٹھائی تقسیم کی گئی۔اس کے بعد حضور انور مکرم چوہدری محمد سعید صاحب کی درخواست پر ان کے مکان پر تشریف لے گئے جو کہ زیر تعمیر ہے۔حضور نے وہاں دعافرمائی اور پھر قیام گاہ پر تشریف لے گئے۔پروگرام کے مطابق احمدی مستورات کثیر تعداد میں قیام گاہ پر پہنچ چکی تھی۔حضور انور نے مستورات سے بیعت لی جن میں تین خواتین نئی بیعت کرنے والی تھیں۔پونے گیارہ بجے کے قریب حضور کمرہ ملاقات میں تشریف لائے اور دو گھنٹے سے زیادہ حضور نے پہلے انفرادی اور پھر اجتماعی ملاقات کا احباب کو موقعہ عنایت فرمایا۔متعدد غیر از جماعت معززین کو بھی حضور نے شرف ملاقات بخشا اور انہوں نے اپنے حالات اور مشکلات بیان کر کے حضور سے دعا کی درخواست کی۔دو بجے حضور نے نماز ظہر وعصر جمع کر کے پڑھا ئیں۔اس کے بعد بیعت ہوئی اور جملہ احباب جماعت نے بیعت کے الفاظ دہرا کر حضور کے دست مبارک پر بیعت کی۔حیدر آباد سے کراچی تشریف آوری اور واپسی برائے ربوہ ۲۰ نومبر کو جناب چوہدری احمد مختار صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی اور مکرم مولوی عبدالمالک صاحب مربی سلسلہ کراچی مع چند دیگر احباب کے حضور کو لینے کے لئے کاریں لے کر حیدر آباد پہنچ چکے تھے چنانچہ حضور کا قافلہ کراچی کے لئے اڑھائی بجے روانہ ہوا۔جماعت حیدرآباد کے نمائندگان بھی حضور کو الوداع کہنے کے لئے پندرہ بیس میل تک قافلہ کے ہمراہ آئے۔ایک مقام پر پہنچ کر حضور نے ان نمائندگان کو شرف مصافحہ بخشا اور اجتماعی دعا کروا کر انہیں واپس جانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔کراچی جاتے ہوئے سہ پہر کو راستہ میں کلری جھیل کے کنارے حضور اور قافلہ نے چائے نوش فرمائی جس کا انتظام جماعت کراچی نے کیا تھا۔ساڑھے چھ بجے شام حضور اپنی قیام گاہ ہاؤسنگ سوسائٹی میں پہنچے۔یہاں تمام احباب نے جو دیر سے اپنے پیارے امام کے دیدار کے لئے چشم براہ تھے والہانہ انداز میں حضور کا استقبال کیا اور وفور محبت سے نعرے بلند کئے۔حضور نے سب کو شرف مصافحہ بخشا اور مغرب وعشاء کی نمازیں ادا فرمائیں۔حضور کے کراچی میں ورود مسعود کی خبر قریباً تمام مقامی اخبارات میں شائع ہوئی اور فوٹو بھی شائع ہوئے۔اسی رات چوہدری نبی احمد صاحب کے فرزند ز بیر احمد صاحب کی دعوت ولیمہ تھی۔حضور نے از راہ شفقت اس میں شرکت فرما کر دعا فرمائی۔