تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 598 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 598

تاریخ احمدیت۔جلد 23 598 سال 1966ء ناظر بیت المال آمد مکتوب مورخہ ۲۰ جون ۱۹۷۳ء میں تحریر فرماتے ہیں ” جناب سیٹھ محمد صدیق صاحب بانی نے مسجد اقصی کی تعمیر کے لئے ایک خطیر رقم عطا فرمائی تھی۔جتنی رقم انہوں نے پیش کی تھی ۲ لاکھ ۷۳ ہزار ۱۶۴ روپے ۷۸ پیسے اس سے زائد خرچ ہو گئے تھے تعمیر مسجد اقصیٰ پر۔اس پر کراچی کے ایک مخلص دوست مکرم شیخ عبدالمجید صاحب صدر جماعت احمد یہ حلقہ ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی نے حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں یہ درخواست کی کہ بیٹی، بیگم بھائی ، مرحوم والدین اور اپنی طرف سے انہیں تعمیر مسجد اقصیٰ کے سلسلہ میں دو سال کے عرصہ میں ۲لاکھ سے ہزار ۶۴ اروپے ۸ے پیسے پیش کرنے کی 146 66 اجازت فرمائی جائے۔حضور نے ان کی یہ پیشکش منظور فرمالی۔۔چنانچہ مکرم شیخ عبد المجید صاحب “ نے حسب وعدہ یہ تمام رقم ادا کر دی تھی۔مسجد کی تعمیر کے دوران نگرانی کا کام حضور انور کی اجازت سے مکرم چوہدری نذیر احمد صاحب انجینئر کے سپرد کیا گیا ہے۔“ مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب کا بیان ہے کہ مکرم چوہدری بشیر احمد صاحب مرحوم سابق نائب افسر جلسہ سالانہ بھی سرگودھا سے ربوہ نگرانی کے لئے آیا کرتے تھے۔مجلس انصار اللہ مرکزیہ کا سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ مرکزیہ کا گیارہواں سالانہ اجتماع احاطہ انصار اللہ میں ۲۸ تا ۳۰ راکتو بر ۱۹۶۶ء کو حسب سابق ذکر الہی اور انات الی اللہ کی مخصوص روایات کے ساتھ منعقد ہوا۔اجتماع کے افتتاح اور اختتام کے موقع پر سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے نہایت اہم تقاریر فرما ئیں۔علاوہ ازیں مجلس شوری کے اجلاس میں بھی کچھ وقت کے لئے رونق افروز ہوئے۔اس طرح تینوں دن حضور نے اجتماع کو رونق اور برکت بخشی۔حضور نے اپنے افتتاحی خطاب میں انصار اللہ کو ان کے بعض اہم فرائض کی طرف توجہ دلائی۔اس ضمن میں تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے نتیجہ میں رونما ہونے والے عظیم الشان روحانی انقلاب کا ذکر کرنے کے بعد اجتماع میں شامل ہونے والے احباب کو موقع مرحمت فرمایا کہ وہ انفرادی رنگ میں اور جماعتی طور پر تحریک جدید کے نئے سال کے لئے اپنے وعدے پیش کریں۔چنانچہ احباب جماعت نے ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہوئے بڑھ چڑھ کر اپنے وعدے پیش کرنے شروع کئے۔اور دیکھتے ہی دیکھتے وعدوں کی مجموعی تعداد اللہ تعالیٰ کے فضل سے