تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 40
تاریخ احمدیت۔جلد 23 40 سال 1965ء رفتار ترقی کو تیز تر کرنے کے لئے نہایت اہم اور دور رس فیصلے کئے۔سکولوں اور کالجوں کے طلباء سے خطاب کیا استقبالیہ تقاریب میں زندگی کے ہر شعبہ کے رہنماؤں سے آپ متعارف ہوئے اور ان ملکوں کے دینی اور تعلیمی مسائل کا قریبی مطالعہ کرنے کے متعدد مواقع آپ کو میسر آئے۔پریس ، ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر آپ کی آمد کی خبریں خاص اہمیت کے ساتھ نشر کی گئیں۔سوئٹزرلینڈ : اس سفر میں آپ سب سے پہلے اور آخر میں سوئٹزرلینڈ تشریف لے گئے جہاں آپ کے اعزاز میں ایک اہم تقریب منعقد ہوئی۔چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ اور مسٹر عبدالرشید فوگل نے احمد یہ جماعت کی طرف سے اور البانوی نژاد مسلمان انجینئر ڈاکٹر محمد عز الدین حسن نے غیر از جماعت مسلمانوں کی طرف سے ایڈریس پیش کیا۔جس میں تسلیم کیا کہ ساری دنیا میں احمدیت اسلام کی علمبردار ہے اور اس نے ہر جگہ اسلام کے مراکز قائم کر دیئے ہیں اور قرآن کریم کے بہت سی زبانوں میں تراجم اس کا ایک عظیم الشان کارنامہ ہے۔ایک ترک دوست قهرمان تو نہ بوجو نے ترک بھائیوں کی نمائندگی میں ایڈریس پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ خدا کا شکر ہے کہ یہاں جماعت احمدیہ کی کوشش سے ۲۲ جون ۱۹۶۳ء کو خانہ خدا کی تعمیر مکمل ہوگئی۔اب تمام ترک اور دوسرے مسلمان یہاں جمع ہوتے ہیں اور نمازیں ادا کر سکتے ہیں ہمارے امام کے پُر اثر خطابات اور تشریحات نہ صرف میرے لئے بلکہ بہت سے ترک دوستوں کے لئے بہت ممد ثابت ہوئے ہیں۔اس ترک بھائی کے بعد ایک کیتھولک دوست اور پھر پاکستان کے انجینئر طاہر عبداللہ حسین نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔اور اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ مسجد محمود کی تعمیر سے ایک ایسا مرکز معرض وجود میں آ گیا ہے جو نہ صرف وسطی یورپ کے مسلمانوں کے لئے مقام اجتماع ہے بلکہ غیر مسلموں کے لئے تبادلہ خیالات کے ایک ادارہ کا کام دے رہا ہے۔نائیجیریا: نائیجیریا میں آپ نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔چیف مجسٹریٹ عبدالرحیم صاحب بکری نے آپ کے اعزاز میں عصرانہ دیا جس میں آپ کو حکومت نائیجیریا کے متعدد افسروں اور لیگوس کے چیدہ چیدہ اصحاب سے ملاقات کا موقعہ ملا۔آپ نے گفتگو کے دوران جماعتی نظام اور مشنوں کی سرگرمیوں سے ان سب کو آگاہ کیا۔آپ کی ملاقات لیگوس کے مقامی حاکم سے بھی ہوئی۔انہوں نے آپ کا گرم جوشی سے استقبال کیا۔اور احمد یہ جماعت کی