تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 564
تاریخ احمدیت۔جلد 23 564 سال 1966ء وقد افاد السادة الاستاذة المختصون انّ الاستاذ غلام بارى كان مثال الجدو الاجتهاد۔و قد حقق تقدما ملحوظاً في دراسة هذه المواد۔كما اننا سعدنا بوجوده معنا خلال هذا العام الجامعي لما اتسم به من كريم الخلق۔که استاد غلام باری مثالی محنتی تھے انہوں نے جہاں مندرجہ بالا مضامین میں نمایاں ترقی کی وہاں اس تعلیمی سال میں آپ کے وجود سے ہم بھی بہرہ مند ہوئے کہ آپ اعلیٰ اخلاق کے حامل استاد تھے۔یو نیورسٹی میں اساتذہ کا سلوک خاکسار کے ساتھ بڑا مثالی تھا۔وہ لائبریری میں مجھے اساتذہ کے کمروں میں مطالعہ کے لئے جگہ دیتے اور میرے استاد عبد العزیز عتیق نے ایک روز مجھے کہا کہ اساتذہ سٹاف روم میں تمہارے متعلق بہت اچھے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔خاکساران سے فقہ اور تفسیر میں تبادلہ خیالات کرتا تو وہ کہتے یہ تو ہمیں پڑھا سکتا ہے یہاں تو یہ صرف زبان کی تعلیم کے لئے آیا ہے۔حضرت خلیفۃ اسیح الثالث کی اجازت سے جب ۱۹۶۷ء کے ماہ مارچ میں عید الاضحیہ کی چھٹیوں کی وجہ سے ہماری یو نیورسٹی بند ہوئی تو خاکسار شام اور اُردن گیا حمص بھی جانے کا موقعہ ملا۔اس جگہ بفضلہ تعالیٰ بہت مخلص جماعتیں ہیں۔دمشق سے جس دن خاکسار واپس بیروت آیا تو بعض احباب جماعت نے آنسوؤں سے الوداع کہا۔واپسی پر خاکسار نے دیار عرب میں ایک سال کے عنوان سے سات آٹھ قسطوں میں لاہور میں مضامین لکھے جو دسمبر ۱۹۶۷ء سے اپریل ۱۹۶۸ء تک چھپتے رہے۔رسالہ قومی زبان جو انجمن ترقی اُردو کراچی کی جانب سے شائع ہوتا ہے اس کے شمارہ مئی ۱۹۶۸ ء نے سیاحت میں میرے مضامین کو بہتر مضامین میں شمار کیا۔بیروت سے اس وقت جو 15 مضمون میرے الفضل میں ” مکتوب بیروت اور تاریخ کے منتشر اوراق“ کے نام سے شائع ہوئے۔وہ الفضل ۱۳ دسمبر ۱۹۶۶ء اور ۱۲ ۱۳۔۲ امئی ۱۹۶۷ء میں چھپے۔بیروت میں بھی ایک مضبوط جماعت تھی جوفلسطینیوں اور شامیوں پر مشتمل تھی جس کے صدر ابوتو فیق تھے جو حیفہ کے رہنے والے تھے۔“ خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کا وصال ولادت: ۱۹۰۱ء وفات: ۱۳ /اکتوبر ۱۹۶۶ء ۱۳ اکتوبر ۱۹۶۶ء کی شام کو علم وفضل کا آفتاب یعنی سلسلہ احمدیہ کے نامور مبلغ ومجاہد متجر عالم خالد احمد بیت حضرت مولانا جلال الدین شمس داعی اجل کو لبیک کہہ کر مولائے حقیقی سے جاملے۔