تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 39
تاریخ احمدیت۔جلد 23 39 سال 1965ء فرمایا۔اس تقریب افتتاح کے موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کرام، علمائے سلسلہ اور بعض دیگر اصحاب نے بھی دعاؤں کے ساتھ اینٹیں نصب کیں۔یہ ہال ۱۰۶ فٹ لمبا اور ۶۶ فٹ چوڑا ہوگا جس میں بغلی کمروں اور یک طرفی برآمدہ کے علاوہ بالکونی کی طرز پر ایک گیلری بھی ہوگی۔گیلری سمیت ہال میں بیک وقت ۱۸۰۰ افراد کی نشست کا انتظام ہو سکے گا۔چوڑائی کے رخ ہال سے ملحق ۲۴ × ۳۷ فٹ کا ایک وسیع کمرہ بھی تعمیر کیا جائے گا جو انٹرنس ہال ( داخل ہونے کا کمرہ) کے طور پر کام آئے گا۔اور اس وسیع کمرہ کی بالائی منزل لائبریری کے لئے مخصوص ہوگی۔یہ ہال تعمیر کے ایک وسیع تر منصوبے کے پہلے مرحلہ کے طور پر تعمیر کیا جارہا ہے۔ہال کے مکمل ہو جانے کے بعد دوسرے مرحلہ میں مجلس خدام الاحمدیہ کے مرکزی دفاتر کی مجوزہ دو منزلہ عمارت میں سے پہلی منزل ( جو ۴۴ ۲۱ فٹ کے رقبہ میں چھ کمروں پر مشتمل ہوگی ) کی تعمیر عمل میں آئے گی۔تیسرے اور آخری مرحلہ میں دفاتر کی بالائی منزل مکمل کرنے کے علاوہ ایک طعام گاہ بھی تعمیر کی جائے گی۔اس پورے منصوبے پر انداز اساڑھے تین لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔اس میں سے سر دست پہلے مرحلہ کے طور پر صرف ہال کی تعمیر شروع کی گئی ہے۔18 صاحبزادہ مرز امبارک احمد صاحب کا دورہ مغربی افریقہ و یورپ ایک لمبے عرصہ سے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلیٰ اس بات کی ضرورت محسوس فرمارہے تھے کہ مغربی افریقہ کے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر وہاں کے مشنوں کا جائزہ لینے اور اسلام کی اشاعت کے لئے وسیع پروگرام بنانے کی خاطر بنفس نفیس وہاں تشریف لے جائیں۔آپ کی اس دیرینہ خواہش کی تکمیل اس سال ہوئی آپ اس لکہی سفر پر ۲۲ را پریل کور بوہ سے روانہ ہوئے اور ۱۰ جون کو واپس مرکز احمدیت ربوہ میں پہنچے۔اپنے اس دورہ میں آپ سوئٹزر لینڈ، نائیجیریا، غانا، آئیوری کوسٹ ، سیرالیون ، سپین، انگلستان، ڈنمارک اور مغربی جرمنی میں تشریف لے گئے۔اس دورے میں مکرم سید مسعود احمد صاحب مبلغ سکینڈے نیویا نے سیکرٹری کے فرائض انجام دیئے۔علاوہ ازیں صاحبزادہ صاحب کے نائب کی حیثیت سے گیمبیا بھی تشریف لے گئے۔صاحبزادہ صاحب کا یہ دورہ ہر اعتبار سے بہت کامیاب رہا۔آپ نے ان ممالک کے مشنوں کی سرگرمیوں کا گہری نظر سے معائنہ کیا اور اشاعت احمدیت کی