تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 538 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 538

تاریخ احمدیت۔جلد 23 538 سال 1966ء وانا اليه راجعون۔آپ کی عمر ۱ ۸ برس تھی۔مرحوم طویل عرصہ سے سرطان کے مرض میں مبتلا تھے۔گزشتہ چند ہفتوں سے آپ کی حالت خراب ہو گئی تھی۔آپ کا پورا نام نیاز محمد خان تھا۔فتح پور (یوپی) میں ۱۸۸۶ء میں پیدا ہوئے۔والد کا نام محمد امیر خان تھا۔جو فارسی کے مشہور شاعر اور نثر نگار ) تھے۔امام بخش صہبائی کے ارشد تلامذہ میں شمار ہوتے تھے۔انہوں نے فارسی کی متداول اور سیاست کے علاوہ نیاز مرحوم کو دوسرے اساتذہ ہند و عجم کا کلام نظم ونثر بھی پڑھایا۔اسی درس تعلیم نے نیاز صاحب میں ادبی نکھار پیدا کیا۔مکتب کی تعلیم سے فارغ ہوئے تو انگریزی پڑھنے کا شوق چرایا۔ایک روایت ہے کہ ایف اے تک انگریزی پڑھی۔ان کے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ وہ سکول و کالج کے چکر میں نہ پڑے تھے۔انگریزی خود پڑھی۔ذہانت و درا کی کا یہ عالم تھا کہ کہ بہت جلد اس زبان پر عبور حاصل کر لیا اور انگریزی ادبیات سے استفادہ کرنے لگے۔انگریزی کی طرح ترکی بھی انہوں نے خود پڑھی اور دو تین مہینوں میں اتنی استعداد پیدا کر لی کہ مشہور ترک ادیب نامن کمال کے فن سے اسی کی زبان میں لطف اندوز ہونے لگے۔ایک پرشکوہ ادبی کارنامہ ” گیتان جلی کا ترجمہ ہے۔یہ ترجمہ شائع ہوا تو ملک کے ادبی حلقوں نے پہلی مرتبہ محسوس کیا که مطلع ادب پر ایک درخشندہ ستارہ طلوع ہوا ہے۔نیاز مرحوم نے انشائے لطیف اور ادب عالیہ میں گراں قدر اضافے کئے ، ان کے قلم سے بے شمار ادب پارے افسانے ،تنقیدی مضامین اور مستقل تصانیف نکلیں۔ان کی تحریریں زور قلم اور نزاکت خیال کا مرقع ہیں آپ کی معرکۃ الآراء کتاب شہاب کی سرگزشت ہے جو ادبی شاہکار تسلیم کی جاتی ہے۔نیاز مرحوم نے کچھ عرصہ ریاست بھوپال میں ملازمت بھی کی۔پولیس کے دفتر میں ہیڈ کلر کی کرتے رہے۔ریاست کے چیف سیکرٹری نواب حمید اللہ خان نے ڈاکٹر بجنوری مرحوم کی تحریک پر نیاز صاحب کے لیے ادبی خدمات کا وظیفہ مقرر کر دیا اور یوں نیاز صاحب کو دفتری جھنجھٹ سے نجات مل گئی۔یہ ۱۹۱۹ء کا واقعہ ہے۔نیاز صاحب کے دوستوں نے اصرار کیا کہ وہ نواب سلطان جہاں بیگم صاحبہ ( والی بھوپال) کی سالگرہ کے موقعہ پر کوئی تصنیف پیش کریں۔سالگرہ میں دو مہینے تھے۔انہوں نے حامی بھر لی اور دو ماہ میں نہ صرف کتاب گہوارہ تمدن تصنیف کی بلکہ طبع کرا کے سالگرہ کے دن پیش کر دی۔۱۹۲۳ء میں انہوں نے اپنا مشہور ادبی رسالہ نگار جاری کیا۔جب تک نیاز صاحب بھارت میں رہے۔یہ رسالہ لکھنو سے باقاعدگی سے نکلتا رہا۔جب وہ پاکستان منتقل ہو آئے تو کراچی سے نگار کا