تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 518 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 518

تاریخ احمدیت۔جلد 23 518 سال 1966ء جائے۔سو آپ مطمئن رہیں کہ صحیح طریق پر عیسائی صاحبان کے سامنے آنے کے ساتھ ہی رقم معین طور پر مقررہ بنگ میں جمع کروا دی جائیگی۔آپ نے یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ اگر متعدد مسیحی اس چیلنج کو منظور کرنے والے ہوں اور اُنہوں نے کوئی چٹھی لکھی ہو تو اُسے بھی ظاہر فرمایا جائے تاکہ بعد وصولی انعام ہم دو چار مسیحیوں کا آپس میں جھگڑا پیدا نہ ہو۔آپ مجھ سے اتفاق فرمائیں گے کہ آپ کی اس مشکل‘ کاحل بھی مندرجہ بالا سطور میں آچکا ہے۔کیونکہ جب عیسائی دنیا کی طرف سے نمائندہ مقرر ہو جائے گا تو دو چار مسیحیوں کا آپس میں جھگڑا پیدا ہونے کا سوال باقی نہ رہے گا۔ہاں نمائندہ کو اختیار ہوگا کہ جو رقم اُسے ملے وہ جتنے پادریوں میں چاہے تقسیم کر سکتا ہے۔جناب پادری صاحب ! یہ معاملہ نہایت سنجیدگی سے طے کیا جانے والا ہے اور اس بارے میں جمله خط و کتابت نہایت ہی سنجیدگی سے ہونی چاہیئے۔نوٹ :۔اگر آپ نے اپنی چٹھی کے شائع کرانے کا کوئی انتظام کیا ہوتو مناسب ہوگا کہ اُس چٹھی کے ساتھ ہی اُس کا یہ جواب بھی شائع ہو جائے۔خاکسار ابوالعطاء جالندھری نائب ناظر اصلاح وارشاد ۲۳ جون ۱۹۶۶ء پادری الیاس صاحب صرف ذاتی شہرت کے لئے میدان میں آئے تھے۔اس لئے خود ان کے فرقہ نے بھی انہیں کوئی اہمیت نہ دی اور نہ نمائندہ مقررکرنے کی حامی بھری۔اُن کا چیلنج بھی محض ایک طفلانہ بیان تھا۔حضرت خلیفہ مسیح الثالث کا چیلنج تو یہ تھا کہ جو مطالب و معانی سورہ فاتحہ میں پائے جاتے ہیں وہ کوئی عیسائی اپنی تمام الہامی کتب سے نکال کر دکھا دے مگر پادری صاحب نے اس کا جواب یہ دیا کہ حمد کا لفظ بائبل کی فلاں کتاب کے فلاں باب کی فلاں آیت میں پایا جاتا ہے۔رب“ کا لفظ بائبل کی فلاں کتاب اور فلاں باب اور فلاں آیت میں موجود ہے اور تمام جہان کا فقرہ فلاں آیت میں لکھا ہے وغیرہ وغیرہ۔اور کہا کہ پیسے نکالو کیونکہ ہم نے چیلنج منظور کر کے اس کا جواب دے دیا ہے۔حالانکہ حضور کی طرف سے مطالب اور مضامین سورۃ فاتحہ میں مقابلہ کا چیلنج تھا۔اس میں درج شدہ الفاظ دکھلانے کا چیلنج نہیں تھا۔الفاظ تو عربی لغات میں موجود ہیں۔پھر پادری