تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 517 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 517

تاریخ احمدیت۔جلد 23 517 سال 1966ء آپ نے سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا پچاس ہزار روپے کا انعامی چیلنج منظور کرنے کا اپنے خط مورخہ ۶۶۔۶۔۱۵ میں ذکر کیا ہے۔آپ نے ماہنامہ الفرقان ماہ مئی ۱۹۶۶ء کا حوالہ دیا ہے جس میں یہ چیلنج زیر عنوان عیسائی دنیا کے لئے پچاس ہزار روپے کا انعامی چیلنج ، شائع ہوا ہے۔گویا آپ اس خط کے ذریعہ اس بات پر آمادگی ظاہر فرماتے ہیں کہ جو حقائق ومعارف سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئے ہیں اسی قسم کے حقائق و معارف آپ اپنی الہامی کتابوں میں سے پیش کریں گے۔جناب عالی ! دنیا میں یہ طریق ہے کہ جب کسی قوم یا ملک کے نام کوئی چیلنج دیا جاتا ہے اور وہ قوم یا ملک اس چیلنج کو منظور کر لیتے ہیں تو وہ اپنے میں سے موزوں ترین نمائندہ کو منتخب کر کے اسے چیلنج دینے والے شخص کے مقابلہ پر پیش کرتے ہیں۔مثلاً امریکہ کے مشہورترین باکسر (BOXER) محمد علی کلے کی چیمپیئن شپ کا معاملہ ہے، جو ملک یا قوم ان کا مقابلہ کرنا چاہے گی وہ لوگ اپنے بہترین باکسر کو اس کے مقابلہ میں پیش کریں گے۔ایسا نہیں ہوتا کہ اس چیلنج کے قبول کرنے کے لئے کوئی سکول بوائے کھڑا ہو جائے۔اب یہ چیلنج حضرت امام جماعت احمدیہ کی طرف سے عیسائی دنیا کے نام ہے اسلئے ضروری ہوگا کہ آپ عیسائیوں کے جس فرقے سے تعلق رکھتے ہیں کم از کم اس کی مینجنگ باڈی اس چیلنج کی منظوری کا اعلان کرے اور شرائط طے کرے پھر انہیں اختیار ہو گا کہ وہ جسے یا جس جس کو چاہیں مقابلہ کے لئے اپنا نمائندہ مقرر کریں۔ایسی صورت میں یہ مقابلہ مفید اور نتیجہ خیز ہو سکتا ہے اور اسی سے فیصلہ پر پہنچنے کے لئے طے شدہ شرائط کے مطابق آسان راہ پیدا ہو جائے گی۔ہمیں بہت خوشی ہے کہ عیسائی صاحبان حضرت امام جماعت احمدیہ کے اس چیلنج کی طرف توجہ کر رہے ہیں۔غالباً پانچ سوروپے کی بجائے پچاس ہزار ہو جانے کی وجہ سے یہ توجہ پیدا ہورہی ہے۔یا در ہے کہ اصل مقصد اس چیلنج کا یہ ہے کہ بائیبل کے مقابلہ پر قرآن کریم کا مرتبہ اور شرف ظاہر ہواور لوگوں پر واضح ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کا پاک کلام قرآن مجید ان اعلیٰ خوبیوں اور حقائق و معارف پر مشتمل ہے جن کا مقابلہ عیسائی صاحبان بائیبل سے ہرگز نہیں کر سکتے۔اس اعلیٰ روحانی مقصد کے لئے یہ چیلنج دیا گیا ہے اور اگر عیسائی دنیا اس چیلنج کو منظور کر کے اور شرائط کا تصفیہ کر کے میدان میں آجائے تو ہمارے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی خوشی نہیں۔آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ رقم کسی بنک میں جمع کروادی