تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 34 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 34

تاریخ احمدیت۔جلد 23 34 سال 1965ء اپنے وسیع تجربہ اور جدید تحقیق کی بناء پر اس حتمی اور یقینی رائے کا اظہار کیا کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے تھے بلکہ ان پر اس وقت محض غشی کی حالت طاری ہو گئی تھی جو موت کے مشابہ تھی۔فی الاصل وہ زندہ ہی تھے اور زندہ حالت میں ہی صلیب پر سے اتارے گئے تھے۔انہوں نے اپنی اس رائے اور نظریہ کوصرف اپنے اور اپنے احباب تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ اس پر مشتمل ایک مضمون بھی وہاں کے مشہور اخبار سنڈے ٹائمز میں شائع کرا دیا۔مضمون کا شائع ہونا تھا کہ ملک کے مذہبی حلقوں میں ایک شور پڑ گیا۔اس کی تردید اور تائید میں مضامین اور بیانات شائع ہونے شروع ہو گئے۔اس ہنگامہ کی صدائے بازگشت شمالی امریکہ بھی پہنچی۔چنانچہ اس مضمون اور اس کے شدید رد عمل پر کینیڈا کے اخبار ٹورانٹو ڈیلی سٹار (TORONTO DAILY STAR) میں امین سپریگٹ (ALLEN SPRAGGETT) نامی کالم نویس کا ایک تفصیلی نوٹ شائع ہوا جس میں انہوں نے اس برطانوی ڈاکٹر کے نظریہ پر روشنی ڈالنے کے علاوہ اس امر کا بھی ذکر کیا کہ ابتدائی زمانہ کا ایک مسیحی فرقہ بھی اسی نظریہ کا حامل تھا کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے تھے۔پھر انہوں نے یہ بھی لکھا کہ یہ نظریہ اسلام کے بھی عین مطابق ہے کیونکہ قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ صلیب پر مسیح علیہ السلام کی موت واقع نہیں ہوئی تھی بلکہ ان کی حالت اس وقت ایک وفات یافتہ انسان کی سی ہوگئی تھی۔امین سپر یکٹ کا یہ نوٹ بہت دلچسپ اور خاص اہمیت کا حامل ہے۔اس کا اردو تر جمہ ذیل میں درج ہے۔وہ لکھتے ہیں:۔کیا فی الواقعہ صلیب پر مسح کی موت واقع ہو گئی تھی؟ اس سوال کے جواب میں ایک برطانوی ڈاکٹر نے اپنا یہ نظریہ شائع کر کے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا تھا اس لئے وہ مرکر جی نہیں اٹھا۔برطانیہ میں غیظ و غضب کی ایک لہر دوڑا دی ہے۔اس مسئلہ پر سینٹ تھامس ہسپتال لندن میں امراض غشی کے خصوصی ماہر ڈاکٹر ہے۔جی۔بورن (DR۔J۔G۔BOURN) نے حال ہی میں وہاں کے اخبار ”سنڈے ٹائمز میں اپنے خیالات پیش کئے ہیں۔ڈاکٹر بورن ایک راسخ العقیدہ عیسائی کے طور پر مشہور ہیں۔انہوں نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ صلیب پر لٹکنے کے دوران مسیح پر ایک قسم کی غشی طاری ہو گئی تھی اور جب اسے قبر میں رکھا گیا تھا تو وہ مردہ نہیں تھا۔انہوں نے اپنے اس نظریہ کی بنیاد غشی کے بعض مریضوں کے گہرے معائنہ اور تجربہ پر رکھی