تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 507 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 507

تاریخ احمدیت۔جلد 23 507 سال 1966ء احباب خلیفہ وقت کے سامنے اپنی رائے پیش کرتے ہیں ان کا مخاطب سوائے خلیفہ وقت کے اور کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔سب سے زیادہ ضروری امر ہے کہ رائے دیتے وقت دعا کریں اللہ تعالیٰ صحیح بات کے اظہار کے لیے صحیح رنگ میں تو فیق عطا کرے۔اور اگر وہ بات خدا تعالیٰ کے نزدیک بھی صحیح ہے تو ہماری زبان میں بھی اثر پیدا کرے۔یہ مجلس ساری دنیا کے لیے نمونہ ہے۔آج سے ہزاروں سال بعد کے لوگ بھی مجلس شوری کے مشوروں کا حوالہ دیا کریں گے۔یہ بھی دعا کریں کہ ہم صحیح نتیجے پر پہنچیں اور جس نتیجے پر پہنچیں اس میں اللہ تعالیٰ عمل کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔اختتامی خطاب میں حضور نے یہ خوشخبری سنائی کہ تفسیر القرآن انگریزی جو ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے نے نہایت محنت، محبت اور شوق سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر اور حضرت مصلح موعود کے فرمودہ درس کے نوٹوں سے تیار کی ہے، پانچ جلدوں میں چھپ گئی ہے انگریزی دان دوستوں کو خود بھی یہ تفسیر اپنے پاس رکھنی چاہئے اور غیر از جماعت دوستوں کے ہاتھ میں بھی پہنچادینی چاہیئے۔حضور نے احباب کی اطلاع کے لیے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ : مکرم و محترم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے مجھے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ انتخاب خلافت کے قواعد پر اگر اس وقت نظر ثانی ہو جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ایک تو کسی کی زندگی کا ویسے ہی اعتبار نہیں۔دوسرے اس کے بعض حصوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔مثلاً سارے صحابہ کرام اس کے ممبر تھے لیکن ۱۹۵۷ء سے ( کہ جب یہ قواعد بنے ) اس وقت تک بہت سے صحابہ وفات پاچکے ہیں۔ان کی تعداد کم ہو رہی ہے۔اس کے علاوہ اور بھی بعض باتیں ایسی ہو سکتی ہیں۔جن پر نظر ثانی کی جانی چاہیئے۔اس کے لئے میں نے فیصلہ کیا ہے۔کہ حضرت مصلح موعود نے جو تین علماء کی سب کمیٹی بنائی تھی۔اس سب کمیٹی میں کچھ اور ممبروں کا اضافہ کر کے یہ کام ان کے سپرد کر دوں۔تا آئندہ سال کی مجلس مشاورت میں ان کی رپورٹ پیش کی جاسکے۔“ خلافت ثالثہ کی اس پہلی مجلس شوری کے دوران جن خوش نصیب اصحاب کو کارروائی میں حضور کے ساتھ معاونت ورفاقت کی سعادت حاصل ہوئی۔ان کے نام یہ ہیں۔شیخ بشیر احمد صاحب سابق حج ہائی کورٹ لاہور، مرزا عبدالحق صاحب امیر جماعت احمد یہ سرگودھا،