تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 506
تاریخ احمدیت۔جلد 23 506 سال 1966ء کی حکمت اور ارادہ سے ان دوستوں نے بھی جنہوں نے اس کے بلاک بنائے یا جنہوں نے اسے چھاپا۔اتنی محنت اور پیار سے یہ کام کیا ہے کہ حیرت آتی ہے۔اللہ 68 تعالیٰ انہیں بھی جزائے خیر عطا کرے۔تفسیر صغیر کے عکسی ایڈیشن کی اشاعت کا تذکرہ کرنے کے بعد حضور نے متعد دا ہم امور کی طرف ممبران کو توجہ دلائی۔مثلاً باہر کی تمام جماعتیں اپنی مفصل سالانہ رپورٹیں مرکز میں بھجوائیں۔مجلس شوریٰ میں ہر جماعت کا نمائندہ آنا چاہیئے۔مجلس شوری کی جب سب کمیٹیاں بنائی جائیں تو منصوبہ بندی کی بھی ایک کمیٹی بنائی جائے۔فنانس سٹینڈنگ کمیٹی کو اپنے مشورے پورے غور و فکر اور فرض شناسی کے ساتھ دینے چاہئیں۔69 نظارتوں کی رپورٹیں سُننے کے بعد حضور کے ارشاد پر سید داؤ د احمد صاحب پر نسپل جامعہ احمدیہ نے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء سے نظارت دعوت وتبلیغ کا ایک نہایت دلچسپ اور ایمان افروز اقتباس پڑھ کر سنایا۔جو مبلغین احمدیت کے تبلیغی وفود سے متعلق تھا۔حضور نے فرمایا کہ انتالیس سال کے عرصے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت ترقی کرتے کرتے کہیں سے کہیں پہنچ گئی ہے۔اس نسبت کے ساتھ ہم توقع رکھتے ہیں کہ کام بھی ہو اور اس کے مطابق رپورٹ بھی یہاں پڑھی جانی چاہیئے اور اس رنگ میں پڑھی جانی چاہیئے کہ دلوں میں ایک بشاشت ہو۔شکر اور حمد پیدا کرنے والی ہو۔دلوں میں جوش پیدا کرنے والی اور ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانے والی ہو۔پھر حضور نے اصلاح وارشاد سے متعلق نہایت زور دار الفاظ میں تمام دنیا کے احمدیوں کو توجہ دلائی۔کہ ہر احمدی مبلغ ہے۔یہ وقت بیدار ہونے کا ہے۔ورنہ آپ کا رب جب اس جہان سے آپ کو اپنے پاس بلائے گا تو آپ اسے کیا منہ دکھائیں گے۔حضور نے ایجنڈا کی تجاویز پر غور اور مشورے کا مرحلہ شروع ہونے سے قبل جو نہایت بیش قیمت نصائح فرمائیں ان کا خلاصہ یہ تھا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں وقار اور حمل پیدا کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ہم اس معاملہ میں دنیا کے معلم اور استاد ہیں۔اس لیے ہماری شوری کی کارروائی میں وقار کا خیال رکھنا اور بے صبری کے مظاہرے سے بچنا نہایت ضروری ہے۔تکرار سے اجتناب کریں اور بحث کا رنگ بالکل اختیار نہ کریں۔اور شوریٰ میں تو بحث کا رنگ اصولاً بھی اختیار نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ