تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 496
تاریخ احمدیت۔جلد 23 تمہیں بھاری انعام دیا جائے گا۔496 مسیحیت کے عالمی اور مرکزی راہنما آج تک جواب دینے سے قاصر رہے ہیں۔طلبائے جامعہ احمدیہ کا امتحان سال 1966ء نیز حضور نے اس موقعے پر بڑی تفصیل سے بتایا کہ یہ بڑی عجیب کتاب ہے ( مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف لطیف سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب)۔اس میں بڑے وسیع مضامین پائے جاتے ہیں اور اس کے ایک ایک فقرہ کی تشریح میں ایک ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے۔جامعہ احمدیہ کے طلباء اس کتاب کو بار بار پڑھیں اور اس میں سے زیادہ سے زیادہ مضامین اور مطالب نوٹ کریں۔تین ہفتے بعد اس سے علیحدہ جلسہ اسی غرض سے منعقد کیا جائے۔طلباء سے مضامین کتاب کے متعلق سوالات بھی ہوں گے۔جن سے یہ بھی معلوم ہو جائے گا۔کہ انہوں نے اس مختصر لیکن وسیع مطالب کی حامل کتاب کا کتنا گہرا مطالعہ کیا ہے۔یہ جلسہ ان طلباء کی عزت افزائی اور انہیں فائدہ پہنچانے کے لئے علیحدہ منعقد ہوگا۔حضور کے ارشاد مبارک کی تعمیل میں ۵ امئی ۱۹۶۶ء کو یہ خصوصی جلسہ منعقد ہوا۔حضور بنفس نفیس گرسی صدارت پر رونق افروز تھے۔حضور کی زیر ہدایت متحن کے طور پر فرائض سید داؤ د احمد صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ محترم صاحبزادہ مرزار فیع احمد صاحب اور محترم مولوی غلام باری صاحب سیف نے ادا کئے۔انہوں نے طلباء سے سوالات پوچھے اور طلبائے جامعہ احمدیہ نے جو پانچ علیحدہ علیحدہ گروپوں ( امانت گروپ، دیانت گروپ، شجاعت گروپ ،صداقت گروپ اور رفاقت گروپ ) میں تھے۔باری باری ان سوالات کے جواب دیئے۔اس طرح باری باری قریباً چوبیس طلباء نے تقاریر کیں۔سوال وجواب کا یہ سلسلہ قریباً سوا گھنٹہ تک جاری رہا اور بہت دلچسپ ہونے کے علاوہ سامعین کے لئے ازدیاد علم کا موجب ثابت ہوا۔حضور نے اس امتحان کے لئے مولانا جلال الدین صاحب شمس اور مولانا ابوالعطاء صاحب کو مُنصف مقرر فرمایا تھا۔چنانچہ اُن کے فیصلہ کے بموجب امانت گروپ اول قرار پایا۔حضور نے اس گروپ کو تفسیر صغیر کے نئے ایڈیشن کا ایک نہایت دیدہ زیب نسخہ بطور انعام عطا فرما کر ہدایت فرمائی کہ اس نسخہ کی ابتداء میں سادہ صفحہ پر اس مقابلہ اور امانت گروپ کے اول آنے کا ذکر کر کے اس