تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 495 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 495

تاریخ احمدیت۔جلد 23 495 سال 1966ء ناصر، محترم سید داؤ د احمد صاحب، محترم غلام باری صاحب سیف ، محترم مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لائکپوری، محترم چوہدری محمد شریف صاحب محترم پروفیسر بشارت الرحمن صاحب ایم اے اور محترم چوہدری غلام بین صاحب نے باری باری الوہیت مسیح کی تردید میں جنگ مقدس میں حضور علیہ السلام کی بیان فرمودہ ایک ایک دلیل پیش کر کے اسکی وضاحت کی۔آخر میں حضور نے تقاریر کے بارہ میں مقررین کو ضروری ہدایات سے نوازا۔دوسرا اجلاس اراپریل ۱۹۶۶ء کو حضور کی زیر صدارت دوسرا اجلاس ہوا۔جس میں (حضرت ) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب، چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب، مولانا ابوالعطاء صاحب اور مولا نا محمد صادق صاحب سماری نے تقاریر فرمائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب ” سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب میں عیسائیت کی تردید میں زبردست دلائل دیئے ہیں۔ہر ایک مقرر نے ان میں سے ایک ایک دلیل پیش کر کے اسکی وضاحت کی۔عیسائی دنیا کو چیلنج حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے تقاریر کے اختتام پر اعلان فرمایا۔کہ اس کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عیسائی دنیا کو یہ چیلنج دیا تھا کہ تو رات اور انجیل کو علوم حکمیہ میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ بھی مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔یہ انعامی چیلنج آج بھی قائم ہے اور میں جماعت احمدیہ کے امام ہونے کی حیثیت سے انعامی رقم میں سو گنا اضافہ کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔عالمگیر جماعت احمدیہ کے روحانی پیشوا کے اس باطل شکن چیلنج کا کوئی جواب مسیحی دنیا کے عالمی لیڈروں میں سے کسی نے نہیں دیا اور اُن پر مہر سکوت لگی رہی البتہ گوجرانوالہ تھیولا جیکل سیمری کے ایک پرنسپل پادری کے ایل ناصر نے مسیحی رسالہ ” کلام حق کے جون تا اگست ۱۹۶۶ء کے پرچوں میں ایک لاتعلق طویل اور مضحکہ خیز مضمون لکھا جس میں خلیفہ راشد کے چیلنج کا اصل جواب دینے کی بجائے بائبل کے چند متفرق حوالوں کو جمع کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ سورۂ فاتحہ کی آیات کے الفاظ ہماری الہامی کتاب میں بھی بکھرے ہوئے موجود ہیں حالانکہ سورہ فاتحہ کے الفاظ جملہ عربی لغات میں اُن کے معانی سمیت موجود ہیں اصل سوال جس نے عالمی کلیسیا کو مبہوت اور ساکت و صامت کر دیا وہ تو یہ تھا کہ اگر بائبل میں سورۃ فاتحہ جیسی دعا موجود ہے تو دکھلاؤ