تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 494
تاریخ احمدیت۔جلد 23 494 سال 1966ء مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل نے جلسہ کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے حضور کی خدمت میں سلسلہ تقاریر کا افتتاح فرمانے کی درخواست کی۔حضور نے فرمایا کہ: " جس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے معبوث فرمایا وہ زمانہ اسلام کے لئے بڑا نازک زمانہ تھا۔دنیا چاروں طرف سے اسلام پر حملہ آور تھی۔حضور علیہ السلام خدائی حکم کے ماتحت تن تنہا اسلام کے دفاع کے لئے کھڑے ہوئے اور حضور نے ہر معترض کو مُسکت جواب دیا اور اس طرح دلائل قاطعہ کے انبار لگادیئے۔یہ دلائل حضور کی کتابوں میں محفوظ ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حضور کی کتابوں کا بالاستیعاب مطالعہ کریں اور ان دلائل سے آگاہ ہوں تا کہ ہم خدمت اسلام کا فریضہ احسن طور پر ادا کر سکیں۔میں نے محسوس کیا ہے کہ اگر حضور کی بیان فرمودہ کسی دلیل کو ایک دفعہ کتاب میں پڑھا جائے اور پھر اسے دوسرے کی زبان سے سُنا جائے تو وہ اچھی طرح ذہن نشین ہوسکتی ہے۔اس لئے علمی تقاریر کا ایک سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جن میں حضور کے بیان فرمودہ دلائل عام فہم انداز میں بیان کئے جائیں گے تا کہ وہ احباب کو ذہن نشین ہوسکیں۔احباب حضور کی کتابوں کا مطالعہ بھی کریں اور پھر ان جلسوں میں شریک ہوکر دلائل کو ذہن نشین 66 کرنے کی کوشش کریں۔“ حضور نے فرمایا چونکہ اسلام پر سب سے بڑا حملہ عیسائیت کی طرف سے تھا۔اس لئے تقاریر کے اس سلسلہ کا آغاز اُن دلائل سے کیا جا رہا ہے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الوہیت مسیح کی تردید میں ” جنگِ مقدس میں بیان فرمائے ہیں۔علماء اس وقت باری باری ایک ایک دلیل حضور کے اپنے الفاظ میں پیش کر کے اس کی تشریح بیان کریں گے۔احباب کو چاہیئے کہ وہ ان دلائل کو توجہ سے سنیں اور انہیں ذہن نشین کرنے کی کوشش کریں تا کہ وہ عیسائیت کا مقابلہ کرنے میں اسلام کے ایک سپاہی ثابت ہو سکیں۔حضور نے یہ بھی اعلان فرمایا کہ اس قسم کے جلسے آئندہ بھی منعقد ہوتے رہیں گے۔چنانچہ آئندہ ماہ پھر جلسہ منعقد ہوگا۔حضور کے افتتاحی خطاب کے بعد محترم مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل ، محترم سید محمود احمد صاحب