تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 493 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 493

تاریخ احمدیت۔جلد 23 493 سال 1966ء م ملک محمد موسیٰ صاحب کالیہ مکرم حبیب احمد صاحب آن به شیخو پورہ، مکرم مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ سرگودھا، مکرم حاجی قمر الدین صاحب قمر آباد نواب شاہ مکرم چوہدری عبدالمنان صاحب بوریوالہ، مکرم چوہدری نذیر احمد صاحب ایم۔ایس سی ملتان ، مکرم عبدالقادر صاحب بھٹی راولپنڈی، مکرم چوہدری محمد دین صاحب نورائی شریف، مکرم بشارت احمد صاحب نورائی شریف ، مکرم محمد احمد صاحب لائلپور، مکرم شیخ محمد صدیق صاحب قبوله، مکرم مولوی محمد ابراہیم صاحب بھا مبھردی ربوہ مکرم عطاء اللہ صاحب فاضل ربوه، مکرم مولوی مبارک احمد صاحب تر گڑی ،مکرم ملک محمد دین صاحب تر گڑی، مکرم خواجہ عبد الکریم صاحب ربوہ، مکرم ماسٹر غلام احمد صاحب ربوہ ، مکرم ماسٹر ظہور احمد صاحب ربوه، مکرم حکیم محمد موبیل صاحب نواب شاہ، مکرم محمد احسان الہی صاحب جنجوعہ چنیوٹ، مکرم عبد المغنی صاحب زاہد ر بوہ مکرم ماسٹر عبدالرب صاحب ربوہ، مکرم ماسٹر عبدالرشید صاحب ربوہ، چوہدری غلام رسول صاحب سیکنڈ ماسٹر ربوہ، محمد یونس خاں صاحب بی۔اے ربوہ ، مکرم ماسٹر احمد علی صاحب ربوہ، مکرم مولوی محمد حسین صاحب، مکرم مستری ابراہیم صاحب وسن کے ، مکرم بشیر احمد صاحب لاہور، مکرم ماسٹر نذیر احمد صاحب ربوہ، مکرم عبدالوہاب صاحب جا سکے، ہمکرم عطاء المجیب راشد صاحب ایم اے ربوه، مکرم محمد شفقت صاحب سوہاوہ ڈھلواں، مکرم نذیر احمد صاحب مبشر ربوہ، مکرم محمد شریف صاحب ایم۔اے مظفر گڑھ، مکرم مہتاب الدین صاحب شیخو پورہ، مکرم حبیب اللہ صاحب قبولہ۔یہ مئی سے اگست ۱۹۶۶ء تک کے واقفین ہیں۔جنہوں نے اپنے ایثار و قربانی اور خلوص کے ساتھ اس شجرہ طیبہ کی آبیاری کرنے کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔جہاں جہاں گئے اپنی دعاؤں اور پُر جوش جذبہ عمل سے افراد جماعت میں زندگی اور رُوحانیت کی نئی روح پیدا کر ڈالی۔خدا تعالیٰ نے اپنے محبوب خلیفہ کی آواز میں ایسا اثر پیدا کیا کہ ان ابتدائی قافلوں کے بعد وقف عارضی کے تحت خدمات بجالانے والے مجاہدین کا گویا تانتا بندھ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کمزور جماعتیں جو سوئے ہوئے شیر کی طرح بے حس و حرکت نظر آتی تھیں جاگ اُٹھیں۔علمی تقاریر کا مبارک سلسله 50 49 ا مارچ ۱۹۶۶ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے مسجد مبارک میں نماز مغرب کے بعد علمی تقاریر کا ایک نہایت ہی مُبارک سلسلہ شروع فرمایا۔سلسلۂ تقاریر کے پہلے اجلاس میں تلاوت و نظم کے بعد