تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 489 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 489

تاریخ احمدیت۔جلد 23 489 سال 1966ء پروفیسر محمد اسلم صابر صاحب کا بیان ہے کہ: ۱۹۶۶ء کی کا نووکیشن میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب فرمایا۔ایک فوٹو سٹاف کے ساتھ اور ایک گروپ فوٹو شعبہ عربی کے اساتذہ اور ایم۔اے کی ڈگری حاصل کرنے والے طلباء کے ساتھ کھنچوایا۔دونوں گروپ فوٹو خاکسار کے پاس محفوظ ہیں۔ایم۔اے کی یہ کلاس حضور کے زمانہ پرنسپل شپ میں کامیاب ہونے والی آخری کلاس تھی۔تین طلباء نے پنجاب یونیورسٹی میں پہلی تین پوزیشن حاصل کی تھیں اور جب نتیجہ کالج میں آیا تھا تو حضور نے اُسی وقت صدر شعبہ عربی استاذی المكترم صوفی بشارت الرحمن صاحب سے فرمایا کہ آئندہ تمہاری پوزیشن نہ آئے گی۔چنانچہ اس کے بعد قریباً دس کلاسوں نے یو نیورسٹی کا امتحان دیا اور نتیجہ ۱۰ فیصد رہامگر پوزیشن کوئی نہیں آئی۔وقف عارضی کی انقلاب انگیز تحریک سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کو منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد جماعتوں کی تربیت واصلاح کا مسئلہ پوری شدت سے دامنگیر رہتا تھا۔اس ضمن میں حضور نے ۱۸ مارچ ۱۹۶۶ء کو وقفِ عارضی کی عظیم الشان تحریک کی بنیا د رکھی اور تحریک فرمائی کہ : ”وہ دوست جن کو اللہ تعالیٰ توفیق دے سال میں دو ہفتہ سے چھ ہفتہ تک کا عرصہ دین کی خدمت کے لئے وقف کریں اور انہیں جماعت کے مختلف کاموں کے لئے جس جس جگہ بھجوایا جائے وہاں وہ اپنے خرچ پر جائیں اور اُن کے وقف شدہ عرصے میں سے جس قدر عرصہ انہیں وہاں رکھا جائے اپنے خرچ پر رہیں اور جو کام اُن کے سُپر دکیا جائے انہیں بجالانے کی پوری کوشش کریں۔“ یہ کام بڑا اہم اور ضروری ہے اور اسکی طرف جلد توجہ کی ضرورت ہے اور قرآن کریم کی تعلیم کا خاص اہتمام واقفین کے بنیادی فرائض میں شامل تھا۔حضور کی منظوری سے وقفِ عارضی کا پہلا وفدر بوہ سے یکم مئی ۱۹۶۶ء کو روانہ ہوا۔یہ وفد چوہدری محمد ابراہیم صاحب ایم۔اے اور قریشی فضل حق صاحب ( دُکاندار گولبازار بوہ ) پر مشتمل تھا۔ان کے بعد اسی ماہ جو احباب بطور واقف مختلف مقامات پر تشریف لے گئے اُن کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔