تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 488
تاریخ احمدیت۔جلد 23 488 سال 1966ء ہوں گے۔جنہوں نے غیر ملکوں میں پن فرینڈ زیعنی قلمی دوست بنائے ہوئے ہوں گے اور پھر وہ ان سے خط وکتابت بھی کرتے ہوں گے۔ہمارے تعلیم الاسلام کالج تعلیم الاسلام ہائی سکول اور جامعہ احمدیہ کے لڑکوں اور اسی طرح نصرت گرلز ہائی سکول اور جامعہ نصرت کی لڑکیوں کو چاہئے کہ وہ مشرقی پاکستان میں پن فرینڈز بنا ئیں۔لڑکے لڑکوں کو پن فرینڈز ( قلمی دوست) بنائیں اور لڑکیاں لڑکیوں کو پن فرینڈز ( قلمی دوست) بنائیں اور اس طرح مشرقی پاکستان کی یونیورسٹیوں اور سکولوں کے طلباء سے دوستانہ تعلق قائم کریں۔اگر وہ ایسا کریں تو یہ کئی لحاظ سے مفید ہوسکتا ہے۔45 166 تعلیم الاسلام کالج کے جلسہ تقسیم اسناد و انعامات سے خطاب تو ۱۳ مارچ ۱۹۶۶ء کو تعلیم الاسلام کالج کے جلسہ تقسیم اسناد و انعامات کی ایک یادگار تقریب عمل میں آئی۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے کالج سے رُخصت ہونے والے ڈگری یافتہ طلباء سے بصیرت افروز خطاب فرمایا جس کے آغاز میں حضور نے اس عظیم ادارہ کی درج ذیل پانچ روایات کا خصوصی تذکرہ فرمایا: ا۔لد اس درسگاہ کے اساتذہ اپنے طلبہ کے ساتھ بچوں سے بھی زیادہ پیار کرتے ہیں۔ہر وقت بے نفس خدمت میں لگے رہتے ہیں۔طلبه غلط سیاست میں حصہ نہیں لیتے اور سٹرائیک STRIKE اور دیگر ایسی بد عادات سے وہ اتنی دور ہیں جتنی کہ زمین آسمان سے۔۔اس درسگاہ کا فکر و عمل مذہب و ملت کی تفریق و امتیاز سے بالا ہے۔یہاں امیر وغریب میں کوئی امتیاز نہیں رکھا جاتا۔کالج کے اساتذہ طلبہ کے لئے ہمیشہ دعاؤں میں مصروف رہتے ہیں۔ان مقدس روایات کی نشان دہی کرنے کے بعد حضور نے طلبہ کو نہایت وجد آفریں انداز میں زریں نصائح فرمائیں اور بتایا کہ میدان علم کی وسعتیں نا پیدا کنار ہیں اس میں منزل بہ منزل آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاؤ۔علوم حاصل کرنے کی کنجی دعا ہے۔پس تد بیر اور دعا دونوں کو کمال تک پہنچاؤ۔قرآنِ کریم کو حرز جان بناؤ کہ تمام دینی و دنیوی برکتیں اسی سے وابستہ ہیں۔