تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 476
تاریخ احمدیت۔جلد 23 476 سال 1966ء بعد ازاں بر هم برمنگھم جلنھم ، ساؤتھ وڈ فورڈ ، ساؤتھ آل، کرائیڈن،آکسفورڈ، ایلنگ،لائٹن وغیرہ علاقوں کا شیخ مبارک احمد صاحب نے دورہ کیا۔کبھی محترم امام بشیر احمد رفیق صاحب اور کبھی محترم لئیق احمد صاحب طاہر نائب امام ساتھ ہو کر ا حباب کو ملتے رہے۔ان میں سے بعض جماعتوں میں چوہدری منیر احمد صاحب منگلی ، صدق المرسلین صاحب، بشیر احمد شیدا صاحب، عبداللطیف خاں صاحب کی معیت میں کئی کئی بار شیخ صاحب کو مختلف احباب سے ملنے کے لئے ان کے گھروں پر جانا پڑا۔کرائیڈن میں خواج احمد صاحب اور محمد یعقوب صاحب نے خاصی امداد کی۔اس جگہ سے وصولی بھی اچھی ہوئی۔جلنگھم میں قاری محمد بین صاحب اور چوہدری لئیق احمد صاحب کھو کھر اور بابو فضل کریم صاحب لون نے احباب جماعت کے پاس لیجانے اور وصولی کے کام میں بہت امداد کی۔یہاں شیخ صاحب کو دو دفعہ جانا پڑا اور چار پانچ دن رہنا پڑا۔ہر بار خاصی رقوم وصول ہوتی رہیں۔یہاں پر جماعت کے بچوں نے بھی دل کھول کر حصہ لیا اور حتی المقدور سب نے حصہ لیا۔برمنگھم میں مطیع اللہ صاحب درد اور رشید احمد صاحب دو دن کے قیام میں سارا دن ساتھ رہے۔بریڈ فورڈ کی جماعت کے صدر میر ضیاء اللہ صاحب تھے۔یہاں با قاعدہ جماعت نے جلسہ کیا اور بذریعہ تقریرہ پر زور تحریک کی گئی وصولی بھی بہت اچھی ہوئی اور جماعت کے بچوں نے بہت اعلیٰ نمونہ دکھایا اور قریباً سب نے حصہ لیا۔ساؤتھ وڈفورڈ اور ملحقہ علاقوں میں مکرم محمد اصغر صاحب لون اور میاں شیر محمد صاحب فرید نے بڑی کوشش کی کہ ان کے قرب وجوار میں رہنے والے ہر ایک احمدی دوست سے شیخ مبارک احمد صاحب کی ملاقات ہو سکے۔رات کے ایک بجے تک اور کبھی اس کے بھی بعد تک وصولی کا کام کیا جاتا رہا۔پریسٹن میں شیخ صالح محمد صاحب اور شیخ منظور احمد صاحب اور میاں کرم دین صاحب نے وصولی کے سلسلہ میں خاص امدا د فرمائی۔گذشتہ ساڑھے تین سال میں شیخ صاحب کی انگلستان آمد تک انگلستان کے احباب کی طرف سے ۱۸۶، ۷ پونڈ یعنی ۷۳۰ ۴۳، اروپے کے قریب وصولی کی اطلاع تھی۔شیخ مبارک احمد صاحب کے ان چند ہفتوں کے قیام کے عرصہ میں ۶۲۵۰ پونڈ یعنی ۰۰۰، ۲۵ ، روپے کے قریب مزید وصولی ہوئی اور شیخ صاحب کی روانگی کے وقت فوری ادائیگی کے وعدہ جات جن دوستوں نے کئے۔اُن کی طرف سے مزید ۵۰۰ پونڈ یعنی دس ہزار روپیہ کی وصولی کی بھی اطلاع آ چکی تھی۔لندن میں احمدی خواتین کی باقاعدہ تنظیم قائم تھی۔جناب ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی بیگم صاحبہ