تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 472
تاریخ احمدیت۔جلد 23 472 سال 1966ء بجائے دائمی قرار دی جائے بعض نے حضرت مصلح موعود کے دور خلافت کے سالوں کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ رائے دی کہ اس تحریک کی مالی حد پچیس لاکھ کی بجائے باون لاکھ مقرر کی جائے اور بعض احباب نے عملاً باون کے عدد کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی قربانی کو اس معیار کے مطابق بنانے کو موجب سعادت تصوّ رکیا۔محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے اس تحریک میں اپنا وعدہ ابتداء ۲۵ ہزار کا پیش کیا۔یہ وعدہ آپ نے تحریک کے پہلے سال کے اندر پورا کر کے پندرہ ہزار روپے کا اور وعدہ کیا جو دوسرے سال میں ادا کر دیا۔آپ کی خواہش تھی کہ حضرت مصلح موعود کے باون سالہ دور خلافت کے پیش نظر ایک ہزار فی سال کے حساب سے باون ہزار روپیہ پیش کرنے کی سعادت حاصل ہو۔چنانچہ تیسرے سال کے لئے آپ نے بارہ ہزار روپیہ کا وعدہ فرما دیا اور آپ نے اس وعدہ کو بھی پورا فرما دیا اور اس طرح آپ نے باون ہزار روپیہ حضرت مصلح موعود کی اس یاد گار تحریک میں ادا فرمایا۔ایک اور دوست دنیا پور ضلع ملتان کے مکرم شیخ محمد اسلم صاحب نے اپنے وعدہ کو بڑھا کر باون سو کر دیا۔دہلی دروازہ لاہور کے ایک دوست مکرم ماسٹر محمد ابراہیم صاحب نے باون سال پر دس روپے فی سال کے حساب سے - ۵۲۰ روپے ادا کئے۔ایسے ہی بہت سے کم استطاعت رکھنے والے دوستوں نے باون باون روپے پیش کئے۔بہت سے مخلصین نے اپنے ابتدائی وعدہ کو نا کافی سمجھتے ہوئے اضافے کئے اور بعض نے تو گرانقدر اضافے کئے اور اس بارہ میں قابل رشک نمونہ دکھایا۔ایسے احباب کی تعداد بہت زیادہ تھی جن میں سے چند احباب کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے۔محترم کیپٹن ڈاکٹر محمد رمضان صاحب دارالصدر غربی الف ربوہ ابتدائی وعده -/۱۵۰ بعد - ۳۰۰۰ روپے کا اضافہ کر دیا۔حضرت مولوی محمد دین صاحب صدر۔صدر انجمن احمد یر بوہ نقد دو ہزار ادا کیا اور - ۷۵ ا۔روپے ماہوار اپنے الاؤنس میں سے اور ۲ روپے ماہوار پنشن سے وضع کرواتے رہے۔ڈاکٹر قاضی محمد منیر صاحب امرتسری لاہور نے پہلے سال میں دس ہزار روپے ادا فرمائے۔پھر مزید دس ہزار روپے پیش کئے۔