تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 465
تاریخ احمدیت۔جلد 23 465 سال 1966ء زندگی میں بھی اپنی تمام نعمتوں سے آپ کو نوازے تا آپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب میں آپ کے صحابہ کی معیت حاصل کر سکیں۔اب جبکہ وعدے اپنی مقررہ حد سے آگے بڑھ چکے ہیں ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہیے اور یہ کوشش کرنی چاہیے کہ یہ وعدے جو تین سال میں وصول ہونے ہیں۔ان کا کم از کم ۱/۳ سالِ رواں یعنی سال اول میں وصول ہو جائے“۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کا خراج تحسین حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب ۲۵ نومبر ۱۹۶۶ء کو فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کے لئے تشریف لائے۔آپ نے مقامی اخبارات کے نمائندگان سے ملاقات کے دوران فرمایا کہ میں بطور چیئر مین بورڈ آف ڈائر یکٹر ز فضل عمر فاؤنڈیشن جماعت احمدیہ کے پریس کا نہایت ہی ممنون ہوں کہ اس نے فاؤنڈیشن کے ساتھ پورا پورا تعاون کیا ہے اور اسے جماعت کے ہر طبقہ تک پہنچانے اور اسے کامیاب کرنے کی کوشش کی ہے۔مجھے امید ہے کہ جماعت کے جملہ اخبارات و جرائد آئندہ بھی اس سلسلہ میں اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔تا کہ جن بابرکت مقاصد کے لئے اس تحریک کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ان کی تکمیل میں اُن کا بھی حصہ ہو اور جماعت کا ہر طبقہ اس میں حصہ لینے کی سعادت حاصل کر سکے۔حضرت چوہدری صاحب نے اس امر پر نہایت اطمینان اور خوشنودی کا اظہار فرمایا کہ سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی ذات گرامی کے ساتھ احباب جماعت کو جو غیر معمولی عقیدت ومحبت ہے۔اس کی وجہ سے احباب نے نہایت اخلاص کے ساتھ فضل عمر فاؤنڈیشن میں حصہ لیا اور والہانہ رنگ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا مظاہرہ کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وعدہ جات کی مجموعی رقم ۳۳لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور سوا چھ لاکھ کے قریب روپیہ نفقد بھی وصول ہو چکا ہے۔الحمد للہ علی ذلک حضرت چوہدری صاحب نے اس سلسلہ میں انگلستان کی جماعت احمدیہ کے وعدہ جات کا بھی ذکر فرمایا۔اور بتایا کہ وہاں کے بعض احباب نے اس تحریک کے سلسلہ میں مسابقت فی الخیرات کے نہایت قابل قدر نمونے دکھائے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔23