تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 453
تاریخ احمدیت۔جلد 23 453 سال 1966ء عظیم کے بعد جماعت احمدیہ ہی وہ پہلی جماعت ہے جس نے قرآن کریم کو بیک وقت عربی اور جرمنی زبان میں شائع کرنی کا بیڑا اٹھایا۔اسکی چھپائی میں قرآن مجید کی اصل عربی عبارت بھی شامل ہے جسکے بالمقابل جرمن ترجمہ پایا جاتا ہے اس ترجمہ کی طباعت کے فرائض جمہوریہ جرمنی کے مشرقی کتب کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے نے سرانجام دیئے ہیں۔“ اس کے بعد مغربی جرمنی میں جماعت احمدیہ کی مساجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ: ہیمبرگ میں دونئی مساجد تعمیر کی گئیں جن میں سے ایک آج تک مغربی جرمنی کی موجودہ تمام مساجد میں سب سے بڑی مسجد شمار کی جاتی ہے۔پھر اس کے بعد ایک اور مسجد شہر فرانکفرٹ میں تعمیر کی گئی جس کا افتتاح عالمی عدالت کے نائب صدر جناب سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے کیا۔ممبران مجلس افتاء کی منظوری سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے 9 فروری ۱۹۶۶ء کو اپنے دور خلافت کی پہلی مجلس افتاء کے درج ذیل ممبران کی منظوری عطا کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔آئندہ کے لئے تا فیصلہ ثانی مجلس افتاء کے مندرجہ ذیل اراکین ہوں گے۔ا۔قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے ۳۔مرزا مبارک احمد صاحب ۵۔قاضی محمد نذیر صاحب لائلپوری ے۔مولوی محمد احمد صاحب جلیل ۹۔سید میر داؤ د احمد صاحب 11۔مولوی تاج الدین صاحب ۱۳۔مولوی محمد صدیق صاحب ۱۵۔مولوی غلام باری صاحب سیف ۱۷۔مولوی محمد احمد صاحب ثاقب ۱۹۔شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ ۲۔مولوی جلال الدین صاحب شمس ۴۔مولوی ابوالعطاء صاحب ۶۔ملک سیف الرحمن صاحب ۸۔شیخ مبارک احمد صاحب ۱۰۔مرزار فیع احمد صاحب ۱۲۔مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب ۱۴۔مولوی نذیر احمد صاحب مبشر ۱۔مرزا طاہر احمد صاحب ۱۸۔مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ ۲۰۔شیخ محمد احمد صاحب ایڈووکیٹ ۲۱۔مولوی عبداللطیف صاحب بہاولپوری ۲۲۔سید میر محمود احمد صاحب