تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 447
تاریخ احمدیت۔جلد23 447 سال 1966ء صلح تا فتح ۱۳۴۵هش/ جنوری تا دسمبر ۱۹۶۶ء ربوہ میں نماز استسقاء حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی منظوری سے مورخہ 4 جنوری ۱۹۶۶ء کور بوہ میں نماز استسقاء ادا کی گئی۔یہ نماز دفاتر صدر انجمن احمدیہ سے ملحقہ کھلے میدان میں حضور انور کے ارشاد کی تعمیل میں محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس نے پڑھائی جس میں ربوہ کے مقامی احباب ہزاروں کی تعداد میں شریک ہوئے۔نماز سے قبل آپ نے سنت نبوی کے مطابق پہلے قبلہ رخ کھڑے ہو کر اجتماعی دعا کرائی اور دعا سے فارغ ہونے کے بعد دو نفل نماز با جماعت پڑھائی۔کسر صلیب کا ایک اور ثبوت مصر اور سوڈان کی ملتی ہوئی سرحدوں سے دعاؤں کی ایک کتاب (HYMN BOOK) اور حضرت مسیح ناصری کی اپنے حواریوں سے گفتگو کا ایک ٹکڑا ملا جسے امریکہ کے رسالہ ”ٹائم“ نے اپنی سات جنوری ۱۹۶۶ء کی اشاعت میں نقل کیا۔پہ اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ حضرت مسیح ناصری صلیب سے زندہ اتارے گئے تھے اور ” قبر میں سے باہر نکل آنے کے بعد وہ اپنے حواریوں سے ملے اور انہوں نے صلیب سے متعلق گفتگو کی۔لکھا ہے کہ حضرت مسیح سے ایک معمہ حل کرنے کے لئے کہا گیا۔حضرت مسیح نے فرمایا اے مرے منتخب پطرس اور وہ جو مرے وارث ہونے والے ہو۔میں نے آج تک تم سے کوئی بات چھپا کر نہیں رکھی۔ہر بات جو تم نے پوچھی میں نے تمہیں بتادی۔اب بھی میں تم سے کوئی بات چھپا کر نہ رکھوں گا۔اس پر پطرس نے حضرت مسیح علیہ السلام سے عرض کی کہ آپ ہمیں صلیب کا معمہ سمجھائیں اور یہ کہ آپ قیامت کے روز صلیب کو اٹھاتے ہوئے کیوں آئیں گے۔اس کے جواب میں مسیح نے فرمایا۔اے میرے منتخب پطرس اور اے میرے بھائیو! آپ کو معلوم ہی ہے کہ جب میں صلیب پر تھا تو کیسے کیسے جھوٹ مجھ پر باندھے گئے اور مجھ پر تھوکا گیا۔اور تحقیر آمیز با تیں مرے خلاف کی گئیں۔یہی وجہ ہے کہ (قیامت کے روز میں صلیب ہوئے آؤں گا تاکہ میں ان کو شرمندہ کر سکوں اور ان کا گناہ ان کے سر تھوپوں“۔