تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 429
تاریخ احمدیت۔جلد 23 429 سال 1965ء نماز پڑھ لیتے اور چٹائی لپیٹ کر سامنے چوہدری رشید احمد صاحب کے کوارٹر میں رکھ دیتے۔کچھ عرصہ یہ سلسلہ جاری رہا۔اس کے بعد اور احمدی احباب بھی شامل ہونے لگے۔بعد ازاں چھپر ڈال کر اور رسیاں باندھ کر حد بندی کی گئی جو پولیس نے ہٹا دی۔دو تین مرتبہ ایسا ہوا۔لیکن عبادت کا سلسلہ جاری رہا۔اس دوران مکرم چوہدری محمد حسین صاحب کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح حکومت کی طرف سے نماز با جماعت پڑھنے کی اجازت مل جائے۔چنانچہ اللہ تعالی کے فضل سے ۱۹۴۹ء میں ڈپٹی کمشنر کراچی جناب محمد الحق صاحب، جو مشہور قانون دان خالد الحق صاحب کے والد تھے، نے عارضی شیڈ بنا کر نماز پڑھنے کی اجازت دے دی۔مکرم چوہدری صاحب نے اس زمین کی الاٹمنٹ کیلئے کوششیں شروع کر دیں۔چونکہ مساجد کی الاٹمنٹ کے متعلق حکومت کی پالیسی ایسی تھی جس کے تحت زمین کی الاٹمنٹ ناممکن تھی تاہم مکرم چوہدری صاحب نے ہمت نہ ہاری اور بالآخر انتہائی نامساعد حالات سے گزر کر وزارت محنت حکومت پاکستان سے با ضابطہ الاٹمنٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔مکرم چوہدری صاحب یہ خوشخبری لے کر جب مکرم چوہدری عبداللہ خان صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی کے پاس پہنچے تو آپ بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ مجھے علم تھا کہ یہ امر محال ہے بلکہ ناممکن ہے لیکن آپ کے انہماک کو دیکھ کر آپ کی دل شکنی کے خوف سے منع نہیں کرتا تھا۔یہ الاٹمنٹ آپ کی کوششوں کا اللہ تعالی کی طرف سے انعام اور دعاؤں کا ثمرہ ہے۔بیت الحمد مارٹن روڈ کے پلاٹ کی الاٹمنٹ ۱۹۵۱ء میں ہوئی۔اسکی چار دیواری کی تعمیر کا سنگ بنیا د ۲۳ مارچ ۱۹۵۲ء کو رکھا گیا۔یہ سنگ بنیاد مکرم چوہدری عبداللہ خان صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی نے نصب فرمایا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی جب ۱۹۵۳ء میں کراچی کے دورہ پر تشریف لائے تو اس وقت اس مسجد کی تعمیر جاری تھی۔حضور نے ۲۸ راگست ۱۹۵۳ء کو اس زیر تعمیر مسجد میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔حضور نے فرمایا کہ: وو سب سے پہلے تو میں اللہ تعالیٰ کا اس امر پر شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہماری جماعت کو یہاں ایک مسجد بنانے کی توفیق عطا فرمائی۔خصوصاً جبکہ پہلے بھی جماعت ایک وسیع ہال بنا چکی ہے جس میں نمازیں ادا کی جاتی ہیں۔(حضور کا اشارہ احمد یہ ہال کراچی کی طرف تھا۔مؤلف ) گو وہ ہال کراچی کی