تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 428
تاریخ احمدیت۔جلد 23 428 سال 1965ء آف اورینٹیئل اینڈ افریقن افیئزز LONDON SCHOOL OF ORIENTAL AND AFRICAN AFFAIRS سے وابستہ تھے۔اور گذشتہ دو سال سے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ میں بطور پروفیسر کام کر رہے تھے۔اور عنقریب انگلستان جانے والے تھے۔آپ کو متعد د مسلم ممالک کی سیاحت کا موقع ملا۔آپ کی خواہش تھی کہ پاکستان میں اپنے قیام کے دوران آپ جماعت احمدیہ کا مرکز بھی دیکھیں۔چنانچہ اپنے وطن واپس جانے سے قبل اپنی اس خواہش کی تکمیل کے سلسلہ میں ہی آپ یہاں تشریف لائے تھے۔آپ نے ربوہ میں تعلیمی ادارہ جات اور خلافت لائبریری دیکھنے کے علاوہ صدرانجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے دفاتر بھی دیکھے۔اور علی الخصوص بیرونی ممالک میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی کے بارہ میں معلومات حاصل کیں۔اور ان میں خاص دلچسپی کا اظہار فرمایا۔آپ نے بعض بزرگانِ سلسلہ اور تعلیمی ادارہ جات کے اساتذہ سے تبادلہ خیالات بھی کیا۔اور اس امر پر بھی خاص خوشی کا اظہار فرمایا کہ ربوہ ایک نئی اور دور افتادہ بستی ہونے کے باوجود تعلیم اور تبشیر کا ایک اہم مرکز ہے۔اور اس سلسلہ میں ہر طرح خود کفیل واقع ہوا ہے۔آپ نے خاص طور پر تعلیم الاسلام کا لج میں سائنسی علوم کی تدریس کے وسیع انتظامات کے متعلق اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا میں یہاں سائنسی علوم میں گہری دلچسپی اور ان کی ترویج و ترقی سے متعلق مساعی سے بہت متاثر ہوا ہوں۔آپ ربوہ میں چند گھنٹہ قیام کرنے اور نہایت مصروف وقت گذارنے کے بعد چار بجے سہ پہر لاہور واپس تشریف لے گئے۔- ربوہ میں کمیونٹی ہال کی تعمیر مورخه ۳ جولائی ۱۹۶۵ کو ٹاؤن کمیٹی ربوہ کی طرف سے ایک کمیونٹی ہال کی تعمیر کا آغاز ہوا۔محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر صدر انجمن احمد یہ پاکستان نے اپنے دست مبارک سے اس کا سنگ بنیا درکھا۔بیت احمد مارٹن روڈ کراچی کا سنگ بنیاد ۱۹۴۸ء میں مکرم چوہدری محمد حسین صاحب والد مکرم چوہدری عبدالمجید صاحب نے بیت الحمد مارٹن روڈ کی بنیاد ڈالی۔ابتداء میں مکرم چوہدری محمد حسین صاحب اکیلے ہی اس مقام پر چٹائی بچھا کر