تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 425 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 425

تاریخ احمدیت۔جلد 23 425 سال 1965ء تھا۔کوئی ان کی ایسی سنتھا ( تنظیم ) نہ تھی جس کے ذریعہ ان کی چودھر قائم ہوسکتی۔نہ ہی ان کے پاس کوئی ایسی جائدا تھی جس کے ذریعہ وہ اپنے محل کھڑے کر سکتے۔آریہ پرتی ندھی سبھا ، پنجاب پر قابض ہونے کے بعد کئی شکھنا سنتھا ئیں ان کے تحت آگئیں ان آٹھ برس میں وہ خود ایک بھی نئی سنتھا کھڑی نہیں کر سکے لیکن جو پرانی سنتھا ئیں تھیں ان پر کسی نہ کسی طرح اپنا قبضہ قائم رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں گو یہ اسی صورت میں رکھ سکتے ہیں۔اگر آریہ سماج میں دھڑے بندی پیدا کر دیں تاکہ مختلف دھڑوں کی لڑائی سے وہ اپنا الو سیدھا کر سکیں۔چنانچہ ان کی یہ کوشش کامیاب ہو رہی ہے۔آج حالت یہ ہے کہ شملہ، بٹالہ، موگہ میں آریہ سماج کے جھگڑے عدالتوں تک جاپہنچے ہیں۔اب نوا شہر کے بھی جانے لگے ہیں۔پٹھانکوٹ میں بھی آریہ سماج کے حالات افسوسناک شکل اختیار کر رہے ہیں۔آریہ سماجوں میں دھڑے بندی تو پہلے بھی ہوا کرتی تھی لیکن اس وقت آریہ سماج کے نیتا اسے سلجھانے کی کوشش کیا کرتے تھے۔آج اس کے نیتا اسے ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔چنانچہ ہر سماج میں دھڑے بنائے جارہے ہیں۔جس وقت موجودہ دھڑے کا آریہ پرتی ندھی سمجھا پر قبضہ ہوا تھا تو اس کے ایک سرکردہ رکن نے کہا تھا کہ وہ پنجابی ریجن میں ایسے حالات پیدا کر دیں گے کہ وہاں کے آریہ سماجی کبھی بھی اکٹھے ہو کر ان کے ہاتھ سے پھر سبھا نہیں چھین سکیں گے۔آج یہی ہورہا ہے۔جتنے لڑائی جھگڑے ہیں وہ سب پنجابی ریجن میں ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہریانہ میں بیشتر آریہ سما جیں بالکل بوگس ہیں اس لئے وہاں کسی میں دھڑے بندی پیدا کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔پنجابی ریجن کی آریہ سما جیں اس وقت تک کافی سرگرم رہی ہیں۔لیکن اب حالات ایسے پیدا کئے جارہے ہیں کہ وہ بھی خاموش ہو جائیں۔لوگوں کو اب ان سماجوں کے جلسوں میں دلچسپی ختم ہوتی جارہی ہے۔جتنا دان (چندہ ) لوگ پہلے آریہ سماج کیلئے دیا کرتے تھے اب نہیں دیتے۔دیں بھی کیوں جبکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ آریہ سماج کی کیا حالت ہو رہی ہے؟ جبکہ اس کے ادھیکاری اس نئی جائداد کو خود ہی بانٹنے کو تیار ہو جائیں تو لوگوں میں ان کیلئے وشواش کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟ آریہ سماج کی کچھ پرانی روایات ہیں آج انہیں بھی مٹی میں ملایا جا رہا ہے۔خبر شائع ہوئی ہے کہ لدھیانہ میں دیا نند کالج کے لئے چندہ جمع کرنے کیلئے بمبئی سے فلمسٹار منگوائے جارہے ہیں۔آج رشی دیانند کی آتما ان تمام واقعات کو دیکھ کر تڑپ رہی ہوگی اور سوچ رہی ہوگی کہ کیا انہوں نے آریہ سماج اسی لئے قائم کیا تھا کہ اس کا آخر میں یہی حشر ہو جواب ہو رہا ہے۔آریہ سماج ایک نہایت ہی شاندار سنتھا رہی ہے لیکن جو حشر آج اسکا ہورہا ہے