تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 24 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 24

تاریخ احمدیت۔جلد 23 24 سال 1965ء تمام خیر و برکت حضور نے اسی بات میں مجھی اور اپنی زندگی اس بات میں گزاری کہ اسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام تمام دنیا میں پھیلایا جائے اور اسی لئے آپ نے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا عہد ہم سے لیا۔اور حضور کو جو تمنا تھی اسلام پھیلنے کی اس کے لئے حضور نے اپنی زندگی میں تحریر، تصنیف، دعا، مجاہدے وغیرہ سب کچھ کیا لیکن حضور دو دعائیں ہمیشہ کے لئے تا قیامت چھوڑ گئے۔ایک دعا منفی ہے اور ایک دعا مثبت منفی دعا یہ ہے۔اے خدا ہرگز مکن شاد آں دل تاریک را آنکه او را فکر دین احمد مختار نیست کوئی ہو جسے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے پھیلانے کی خواہش نہیں ہے اور اسے اس بات کا درد نہیں ہے آپ کی دائمی یہ بددعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے شاد کام نہ کرے۔اس کے برعکس آپ کی ایک دائمی دعا ہے اللہ تعالیٰ کے حضور تا قیامت۔کریما صد کرم کن بر کسے کو ناصر دین است بلائے او بگرداں گر گہے آفت شود پیدا اے خدا سینکڑوں رحمتیں نازل کر اس شخص پر جو دین کی امداد کر نے والا ہے۔اور اگر وہ کبھی مشکل میں پھنس جائے تو تو اپنے فضل سے اس کی مشکل دور کرنا۔یہ دونوں دعائیں متقابل ہیں۔اللہ تعالیٰ اس پہلی بددعا سے ہم میں سے ہر ایک کو محفوظ رکھے اور اس دوسری دعا سے بہرہ ور کرے اور ہمارے دلوں میں اور ہماری نسلوں کے دلوں میں اسلام کا درد ہو اور ہماری زندگی اسلام کے درد میں اس طرح بسر ہو۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام چاہتے تھے اور ان کا منشاء تھا۔اس کی تفصیل بیان کرنے کا یہ موقع نہیں ہے۔جیسے حضور چاہتے تھے خدا تعالیٰ ہمیں ویسا ہی بنادے“۔اس تاریخی مجلس مشاورت میں ۵۶۸ نمائندگان جماعت نے شرکت فرمائی۔شیخ محمد احمد صاحب مظہر کی لسانی تحقیق پر اخبار پاکستان ٹائمنز کا خراج تحسین برصغیر کے ممتاز ماہر لسانیات شیخ محمد احمد صاحب مظہر (امیر جماعت ضلع لائل پور ) ایڈووکیٹ ہائیکورٹ مغربی پاکستان برسوں سے جو لسانی تحقیق فرمارہے تھے اس کا پہلا شیر میں ثمر دسمبر ۱۹۶۳ء میں ایک مستقل انگریزی تصنیف کی شکل میں نمودار ہوا جس کا نام تھا ARABIC THE SOURCE OF ALL THE LANGUAGES۔یہ کتاب مکرم سید داؤ د احمد صاحب