تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 408 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 408

تاریخ احمدیت۔جلد 23 408 سال 1965ء خان غلام سرور خان صاحب درانی آف چارسده (وفات: ۲۰ فروری ۱۹۶۵ء) ( حضرت ) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے آپ کی وفات پر لکھا۔مرحوم سلسلہ احمدیہ کے ساتھ اخلاص رکھنے والے تھے اور جماعتی خدمات بجالانے کے لیے ہمیشہ مستعد رہتے تھے۔مرحوم میں بعض مخصوص صفات اور خوبیاں تھیں۔بہت نڈر اور بہادر تھے۔ہر مجلس میں احمدیت کا پیغام پہنچاتے بے حد مہمان نواز اور ہمدرد تھے، غرباء اور مساکین کی امداد کرتے اور سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی سے حد درجہ محبت رکھتے۔بلکہ سب خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام لیتے وقت ضرور علیہ الصلوۃ والسلام کہتے۔مجھے ان کی وفات پر بے حد رنج ہے۔میاں محمد ابراہیم صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ سماعیلہ ضلع گجرات 67 (وفات : ۲۳ فروری ۱۹۶۵ء) احمدیت کی جیتی جاگتی تصویر اور پر اثر اور باوقار شخصیت تھے۔موصی تھے اور تحریک جدید کی پانچہزاری فوج کے مجاہد تھی۔فصل تیار ہوتی تو مقررہ چندہ نکال کر علیحدہ رکھ لیتے اور پھر باقی کو استعمال کرتے ایک بیگہ زمین وقف جدید کے لیے وقف کر رکھی تھی اور تبلیغ کا زبردست جذ بہ رکھتے تھے۔مصلح الدین سعدی صاحب (وفات : ۲۵ فروری ۱۹۶۵ء) حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درد کے چھوٹے بھائی اور ایک مخلص زندہ دل اور غیور احمدی تھے۔خدمت خلق کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔چٹا گانگ کے Lion کلب اور رائفل کلب کے سرگرم رکن تھے اور کئی سال تک متعدد اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔چٹا گانگ میں ۱۹۶۰ء کے قیامت خیز سیلاب میں کلب کی طرف سے خدمت خلق کے عظیم کارنامے سرانجام دیئے۔چٹا گانگ کے اعلیٰ سرکاری حکام آپ کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔مشرقی پاکستان کے گورنر جنرل اعظم خان نے آپ کی شاندار مساعی کو بہت سراہا اور اُن کے کارناموں کی وجہ سے صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان سے آپ کی خصوصی ملاقات ہوئی۔چٹا گانگ پریس نے آپ کی وفات کی خبر شائع کرتے ہوئے آپ کی ملی خدمات کو خراج تحسین ادا کیا۔69