تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 407 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 407

تاریخ احمدیت۔جلد 23 منشی سید وراثت علی صاحب (وفات : ۲۴ جنوری ۱۹۶۵ء) 407 سال 1965ء سونگھڑہ کے مشہور ولی اللہ اور صاحب کشف حضرت حاجی حسن علی صاحب کے پوتے تھے۔جنہوں نے فرمایا تھا کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام پیدا ہو گئے ہیں۔مگر ہنوز ظہور فرما نہیں ہوئے۔چوہدری ظفر الحسن صاحب 64 ( وفات : ۳ فروری ۱۹۶۵ء) آپ کے بیٹے مکرم چوہدری ندیم احمد صاحب ایڈووکیٹ کے مطابق آپ ۱۳۲۹ھ (۱۹۱۱ء) میں تحصیل پھالیہ ضلع گجرات کے قدیم گاؤں پہیلاں کے ایک راجپوت گھرانے میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد کا نام مولوی فضل الرحمن صاحب تھا۔۱۹۳۲ء میں فوج میں ملازمت اختیار کی۔آپ کو بہت سی پیشہ وارانہ اسناد اور ملٹری ایوارڈز جن میں بر ماسٹار اور دوسری جنگ عظیم کا وار میڈل شامل تھے ، ملے۔آپ کی پہلی شادی محترمہ امتہ الحفیظ صاحبہ بنت محترم حافظ عبید اللہ صاحب مجاہد ماریشس سے ہوئی جو کہ حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی کی پوتی تھیں۔جو ایک حادثہ میں وفات پاگئیں تھیں۔دوسری شادی محترمہ نسیم ظفر صاحبہ سے ہوئی۔پہلی شادی سے دو بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی جبکہ دوسری بیوی سے دو بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔مر بیان کرام کا بہت احترام کرتے تھے۔دینی احکام کی انتہائی سختی سے پابندی کرتے اور اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر بھر پور توجہ دیتے۔بہت سی خوبیوں کی بنا پر اپنوں اور غیروں میں بہت مقبول تھے۔آپ زعیم انصار اللہ حلقہ رام سوامی کراچی اور تادم آخر اسی حلقہ کے جنرل سیکرٹری بھی رہے۔سید محمد یوسف صاحب ناظم جائیداد (وفات:۱۹فروری ۱۹۶۵ء) 65 آپ نے ۱۶ برس کی عمر میں حضرت مصلح موعود کے دست مبارک پر بیعت کی۔ملازمت کو خیر باد کہہ کر شدھی کے خلاف جہاد میں شامل ہو گئے اور اپنی ملازمت کے دوران سفارش نہ ہونے کے باوجود اپنے ہمعصر تمام اہلکاروں سے زیادہ ترقی پائی۔۱۹۵۴ء سے آخر دم تک صدرانجمن احمدیہ کے مختار عام کی حیثیت سے بھی گراں قدر خدمت سرانجام دی۔66-