تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 406 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 406

تاریخ احمدیت۔جلد 23 406 سال 1965ء ماسٹر خیر الدین صاحب مرحوم سابق نائب ناظر تعلیم قادیان کے چھوٹے بھائی تھے۔با با جان محمد صاحب در ولیش (وفات قادیان : ۲۲ جنوری ۱۹۶۵ء) 62 61 معمر اور موصی بزرگ تھے۔کئی سال تک مختلف مقدس مقامات پر اخلاص و وفا سے پہرا کی ڈیوٹی پر متعین رہے۔کئی سال دارا سیخ میں حضرت اماں جان کے کنویں والے محن کے حصے میں قیام فرمار ہے۔رُكَعًا سُجَّدًا کی تصویر تھے۔مکرم چوہدری فیض احمد گجراتی صاحب اپنی تالیف وہ پھول جو مرجھا گئے، میں محترم بابا جان محمد صاحب گھٹیالیاں کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ابتدائے درویشی میں سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ارشاد کی تعمیل میں جو لوگ اپنے اہل و عیال اور مال و منال کی محبتوں اور قربتوں کو ترک کر کے درویشانہ زندگی کے ذریعہ سے رضائے الہی کے حصول کے لئے قادیان تشریف لائے تھے۔انہی میں سے ایک ہمارے بزرگ اور درویش بھائی بابا جان محمد صاحب بھی تھے۔آپ کا اصل وطن موضع گٹھیالیاں ضلع سیالکوٹ (مغربی پاکستان ) تھا اور اسی نسبت سے آپ ”بابا جان محمد گٹھیالیاں“ کہلاتے تھے۔باباجی نے اپنی درویشی کے کئی سال حضرت اماں جان کے کنویں والے محن کے حصے میں گزارے۔باباجی اسی صحن میں تنگی کھری چار پائی پر بیٹھ کر ایک تکیے کے اوپر بڑی تقطیع اور جلی حروف والا قرآن کریم رکھ کر بہت بلند آواز میں تلاوت کرتے رہتے تھے۔اور نمازوں کے اوقات میں مسجد کا رخ کرتے تھے یا پھر اپنا مخصوص ایلمونیم کا پیالہ لئے کھانا لینے لنگر خانہ جایا کرتے تھے۔درویشی کے ابتدائی ایام میں آپ مختلف مقامات پر پہرہ وغیرہ کی ڈیوٹی پر متعین رہے۔لیکن جب بڑھاپے نے توانائیاں چھین لیں اور بہت ضعیف ہو گئے تو ڈیوٹیاں معاف ہوگئیں۔اور تلاوت قرآن کریم، نمازیں اور دعائیں ہی اجزائے زندگی ہو گئیں۔بابا جی کی درویشی کے طفیل ان کی اہلیہ زینت بی بی صاحبہ کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ وہ نومبر ۱۹۵۳ء میں پاسپورٹ اور ویزا لے کر قادیان کی زیارت اور بابا جی سے ملاقات کے لئے قادیان آئیں۔اور نہایت مختصر سی علالت کے بعد ۲ دسمبر ۱۹۵۳ء کو وفات پا کر بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئیں۔اور اس طرح وہ خوش قسمت خاتون درویشی کے لئے اپنے خاوند کی قربانی دے کر اس قربانی کا اجر پاگئی۔