تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 387 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 387

تاریخ احمدیت۔جلد 23 387 سال 1965ء حضرت ڈاکٹر عبدالرحیم صاحب قریشی الاصل تھے۔والد ماجد کا نام قریشی مولا بخش تھا۔دہلی کے مشہور فراش خانہ احاطہ جن صاحب محلہ رود گروں میں بود و باش رکھتے تھے۔(مولوی بشیر الدین صاحب دہلوی کی کتاب ”واقعات دار الحکومت دہلی حصہ دوم صفحہ ۲۰۴ پر اس احاطہ کا ذکر ملتا ہے۔مطبوعہ شمس مشین پریس آگرہ ۱۳۳۷ھ ۱۹۱۹ ء ) حضرت منشی عبدالعزیز صاحب دہلوی مصنف حیرت کی حیرانی (جن کا ذکر حضرت مسیح موعود نے آئینہ کمالات اسلام صفحه ۶۲۴ زیر نمبر ۲۲۰ اور ضمیمہ انجام آتھم صفحه ۴۲ زیر نمبر ۵۴ میں فرمایا ہے ) آپ کے سگے ماموں تھے۔ڈاکٹر صاحب دہلی سے ہجرت کر کے ۱۹۳۰ء سے لے کر تقسیم ملک تک قادیان میں قیام پذیر رہے۔آپ تحریک جدید کی پانچہزاری فوج میں شامل ہونے کا اعزاز رکھتے تھے۔36 حضرت ڈاکٹر عبدالرحیم صاحب دہلوی حلفیہ بیان دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔میں خداوند پاک کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ ذیل میں جو خواب میں درج کر رہا ہوں وہ بالکل صحیح اور درست ہے۔میں ۱۹۰۱ء کے ابتدائی مہینوں میں احمدیت میں داخل ہوا۔احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق اس طرح سے ہوئی کہ میں ریاست کپورتھلہ میں پڑھتا تھا چونکہ وہاں احمدی بہت تھے اور ہر جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر ہوتا رہتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر جب میں سنتا تو اپنے پرانے خیالات کی بناء پر چنداں خیال نہ کرتا۔لیکن خداوند پاک کے فضل سے دو احمدی دوست مجھے ایسے ملے کہ میرے پیچھے ہی پڑ گئے اور جب میں ان سے ملتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی کا ذکر کرتے رہتے۔آخر میرا دل بھی کچھ اس طرف ہونے لگا اور میں بہت دعائیں کرتارہتا۔ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنگل میں جا رہا ہوں وہاں کوئی آبادی نظر نہ آئی۔لیکن اسی جنگل میں مجھ کو جھونپڑا نظر آیا۔اس جگہ بہت سے مسلمان جمع ہیں۔میں بھی وہاں چلا گیا۔معلوم ہوا کہ یہاں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لانے والے ہیں اور آپ کی آمد کی بہت خوشیاں ہورہی ہیں۔میں بھی ٹھہر گیا۔وہاں اس جھونپڑے کے باہر ایک پلنگ بچھا ہوا ہے اس پر بچھونا بچھایا گیا اور اس بچھونے پر سرہانے سے پائنتی تک کانچ کے ٹکڑے پھیلا دیئے گئے ہیں اور پھر اس پر سفید چادر بچھا دی اور کہنے لگے کہ اس پر حضور بیٹھیں گے۔اسی اثناء میں حضور تشریف لائے۔چہرہ بہت ہشاش ہے۔نہایت ہی خوبصورت جوان ہیں اور اچھے نئے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور سر پر ٹوپی ہے۔لیکن حضور کھڑے ہیں اور اس پلنگ پر نہیں بیٹھے۔اسی وقت نظارہ بدل گیا۔اب دیکھتا ہوں کہ