تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 370
تاریخ احمدیت۔جلد 23 370 سال 1965ء اولاد: سیف الدین سیف صاحب نورالدین صاحب، ابراہیم ظفر صاحب، غلام محی الدین صاحب، سکینہ بی بی صاحبہ، زینب بی بی صاحبہ، رحمت بی بی صاحبہ، آمنہ بی بی صاحبہ، مبارکہ بیگم صاحبہ حضرت مرز امحمد اسماعیل صاحب ولادت : ۱۸۸۳ء بیعت : ۱۸۹۷ء وفات : ۲۱ جنوری ۱۹۶۵ء آپ پانچویں یا چھٹی جماعت کے طالب علم تھے جب آپ کے ماموں حضرت مرزا خدا بخش صاحب مصنف عسل مصفی آپ کو قادیان لے گئے اور آپ نے بیعت کی سعادت حاصل کی۔میٹرک تک قادیان ہی میں تعلیم حاصل کی۔آپ جھنگ سائل کے رہنے والے تھے۔۱۹۰۳ء میں لاہور آگئے۔اور یہاں ہی ملازمت اختیار کی۔اندرون بھاٹی گیٹ میں آپ کی سکونت تھی۔بہشتی مقبرہ ربوہ میں آپ کی تدفین ہوئی۔بہت نیک اور متقی انسان تھے۔اولاد: محمد احمد صاحب، صلاح الدین صاحب، محمد افضل نسیم صاحب، سلیمہ صاحبہ، طاہرہ صاحبہ۔محموده صاحبه حضرت حکیم محمد عمر صاحب لدھیانوی ولادت : ۱۸۸۶ءاندازاً وفات : ۸ فروری ۱۹۶۵ء آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم اور مخلص صحابی حضرت مولوی عبدالقادر صاحب لدھیانوی کے فرزند تھے۔آپ کی کوئی اولاد نہ تھی۔عرصہ ہوا آپ نے اپنی تمام جائیداد جماعت کے نام وقف کر دی ہوئی تھی۔غرباء کے ساتھ ہمدردی آپ کا خاص وصف تھا۔چہرہ وجیہہ، انداز گفتگو پر شوکت اور قد لمبا تھا۔حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب الکمل نے آپ کی وفات پر لکھا کہ: حکیم صاحب سلسلہ کے انتظامی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔لنگر خانہ مہمان خانہ آپ ہی کے زیر انتظام رہا۔اور خلافت اولیٰ میں خوب بخوشی اسلوب خدمات بجالائے۔پھر میاں غلام رسول صاحب ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کے زیر ہدایت ڈاکوؤں کے ایک گروہ کو نہایت حکمت عملی سے پکڑوا کر زمین کے مربعے انعام پائے۔اور آخران کو فروخت کر کے قادیان میں بڑی بلڈنگ بنوائی اور اسے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے حضور سلسلہ کے لیے پیش کر دیا۔اور وہاں نصرت گرلز سکول رہا۔