تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 369
تاریخ احمدیت۔جلد 23 369 سال 1965ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جلیل القدر صحابہ کرام کا انتقال جیسے جیسے ماہ و سال آگے بڑھتے جارہے تھے اسی نسبت سے قدوسیوں کا یہ گروہ کم ہوتا چلا جارہا تھا۔بہت سے پاک وجود جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے براہ راست فیض پایا اپنی چمک اور نور سے ایک عالم کو منور کرتے رہے اور پھر سال ۱۹۶۵ء میں ایک کامیاب دور حیات گزار کر اپنے مولا کے حضور حاضر ہو گئے۔ان کا تذکرہ ذیل میں دیا جاتا ہے۔حضرت مولوی ظفر الاسلام صاحب ولادت : ۱۸۹۹ء بیعت : ۰۸۔۱۹۰۷ء وفات : ۸جنوری ۱۹۶۵ء آپ کو بچپن میں اپنے والدین کے ہمراہ چھ ماہ قادیان میں رہنے اور اس دوران بار بار حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کا اعزاز حاصل ہوا۔آپ نے ربوہ میں وفات پائی۔آپ صاحب قلم تھے۔فضل عمر کے زریں کارنامے آپ کی یاد گار تالیف ہے۔اس کے علاوہ انسپکٹر بیت المال کے طور پر خدمت بجالانے کی توفیق بھی ملی۔آپ کی کوئی اولاد نہ تھی۔حضرت مولوی الف دین صاحب ولادت : ۱۸۸۲ء بیعت : ۱۹۰۲ء وفات : ۹ جنوری ۱۹۶۵ء آپ کی عمر چاند گرہن اور سورج گرہن ( مارچ ۱۸۹۴ء) کے وقت ۴ اسال کی تھی۔آپ کو تبلیغ حضرت مولوی فیض الدین صاحب اور مہر غلام حسین صاحب کے ذریعہ ہوئی۔اس اثر کے بعد آپ قادیان روانہ ہوئے۔تین اشخاص تھے ایک ان میں برہمن بھی تھا۔برہمن کو راستے میں عیسائیوں نے روک لیا۔وہ پہلے تو رک گیا۔لیکن ایک دن کے وقفہ کے بعد آخر قادیان آہی پہنچا۔جب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس برہمن نے نجات کا مسئلہ پوچھا۔حضور نے فرمایا کہ: سناتن ۳۶ کروڑ دیوتاؤں اور آریہ تین خداؤں اور عیسائی بھی تین خداؤں کے قائل ہیں۔آپ یہاں ہمارے پاس ٹھہریں اور تحقیقات کریں۔(جو کہ توحید پرست ہیں ) آپ سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔