تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 352 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 352

تاریخ احمدیت۔جلد 23 352 سال 1965ء پریشانیاں ہر قسم کی دُور ہوں۔نیکی تقومی تعلق باللہ ہمیشہ کے لئے عطا ہو کبھی زوال نہ آئے۔انجام بخیر ہوں۔نیک نسلیں چلیں جو ذکر خیر اور بلندی درجات کی مغفرت کا موجب بنیں۔نیز یہ دعا ہر گز نہ بھولیں کہ فتح و نصرت عزت و وقار کے ساتھ قادیان کی واپسی خدا تعالیٰ دکھائے اور وہ دن آئے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی امانتوں کو سب اہلِ خاندان ( خاندان حضرت مسیح موعود ) اور اہل جماعت آپ کے جسدِ مبارک کی آرام گاہ کے قریب لٹا کر اپنے فرض سے عہدہ بر آہو کر دنیا و آخرت میں سرخرو ہوں۔آمین۔جناب ثاقب صاحب کا پُر سوز اور رقت انگیز کلام ۲۰ دسمبر کے دوسرے اجلاس کے آغاز میں جبکہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کرسی صدارت پر رونق افروز تھے۔شاعر احمدیت جناب ثاقب زیروی صاحب کے تازہ کلام نے پورے مجمع کو نہ پا دیا۔ثاقب زیروی صاحب نے اپنی تازہ نظم پیمان شاعر - به روح مصلح موعود نہایت پر در دلیجه میں خوش الحانی سے پڑھ کر سنائی۔اس نظم میں مکرم ثاقب صاحب نے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے وصال پر غم واندوہ سے مملود لی جذبات کا اظہار کرنے کے علاوہ خلافت ثالثہ کے قیام اور شدید خوف کے بعد آسمانی سکینت کے نزول کے پُر کیف منظر کا وجد آفرین نقشه عجب دلکش انداز میں پیش کیا تھا۔آپ کی اس نظم نے پہلے تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے وصال کے ذکر پر احباب کے مجروح دلوں کے زخموں کو تازہ کر کے ان پر در دو کرب ، سوز و گداز اور رقت کا عالم طاری کر دیا اور پھر خلافت ثالثہ کے قیام پر آسمانی سکینت کے نزول کے ذکر پر ا حباب کو جذبات تشکر سے لبریز کر کے انہیں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز کرا دیا۔جب آپ نے حضرت المصلح الموعود کے وصال کا ذکر کرتے ہوئے یہ اشعار پڑھے۔اب نگاہیں تجھے ڈھونڈمیں بھی تو رکس جاپائیں جانے کب پائے سکوں پھر دل ویراں پیارے کون افلاک یہ لے جائے یہ روداد الم تیرا متوالا ابھی تک ہے پریشاں پیارے تو احباب کا غم تازہ ہوگیا اور ہر طرف سے ہچکیوں اور سسکیوں کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔عجب پُر دردمنظر تھا۔احباب جان و دل سے اپنے عزیز آقا سید نا حضرت المصلح الموعود کے حسن و احسان