تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 335 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 335

تاریخ احمدیت۔جلد 23 335 سال 1965ء ۱۹۳۶ء میں آپ نے فرمایا: قرآن کریم کو وہ عظمت حاصل ہے جو دنیا کی اور کسی کتاب کو حاصل نہیں اور اگر کسی کا یہ دعوی ہو کہ اس کی مذہبی کتاب بھی اس فضیلت کی حامل ہے تو میں چیلنج دیتا ہوں کہ وہ میرے سامنے آئے۔اگر کوئی وید کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے۔اگر کوئی توریت کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے۔اگر کوئی انجیل کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے اور قرآن کریم کا کوئی ایسا استعارہ میرے سامنے رکھ دے جس کو میں بھی استعارہ سمجھوں۔پھر میں اس کا حل قرآن کریم سے ہی نہ پیش کر دوں تو وہ بیشک مجھے اس دعویٰ میں جھوٹا سمجھے۔لیکن اگر پیش کر دوں تو اسے ماننا پڑے گا کہ واقعہ میں قرآن کریم کے سوا دنیا کی اور کوئی کتاب اس خصوصیت کی حامل نہیں۔189 166 ۱۹۳۴ء میں آپ نے فرمایا: صرف یہی نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں ہی یہ بات تھی بلکہ آپ آگے بھی یہی چیز دے گئے ہیں۔اور آپ کے طفیل مجھے بھی ایسے قرآن کریم کے معارف عطا کیے گئے ہیں کہ کوئی شخص خواہ وہ کسی علم کا جانے والا ہو اور کسی مذہب کا پیرو ہو، قرآن کریم پر جو چاہے اعتراض کرے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس قرآن سے ہی اس کا جواب دونگا۔میں نے بار ہا دنیا کو چیلنج کیا ہے کہ معارف قرآن میرے مقابلہ میں لکھو۔حالانکہ میں کوئی مامور نہیں ہوں مگر کوئی اس کے لیے تیار نہیں ہوا۔اور اگر کسی نے اسے منظور کرنے کا اعلان بھی کیا تو بے معنی شرائط سے مشروط کر کے ٹال دیا۔مثلاً یہ کہ بند کمرہ ہو۔کوئی کتاب پاس نہ ہو۔مگر اتنا نہیں سوچتے کہ اگر خیال ہے کہ میں پہلی کتب اور تفاسیر سے معارف نقل کرلوں گا۔تو وہی کتب تمہارے پاس بھی ہوں گی۔تم بھی ایسا ہی کر سکتے ہو۔پھر اگر میں دوسری کتب سے نقل کرونگا۔تو خود اپنے ہاتھ سے اپنی ناکامی ثابت کر دونگا۔کیونکہ میرا دعویٰ تو یہ ہے کہ نئے معارف بیان کرونگا۔لیکن مقابلہ کے وقت جب پرانی تفاسیر سے نقل کرونگا تو خود ہی میرے لیے شرمندگی اور ندامت کا موجب ہوگا۔مگر میں جانتا ہوں یہ سب بہانے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ کسی کو سامنے آنے کی جرات ہی نہیں۔190 66