تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 334
تاریخ احمدیت۔جلد 23 334 سال 1965ء سے دور کا بھی واسطہ نہیں اور جو تائیدات الہیہ کے خاص رنگ سے رنگین ہیں۔اللہ تعالیٰ کی خاص مشیت نے حضرت مصلح موعود کو علوم ظاہری اور باطنی میں جو برتری عطا کی تھی اور اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر کرنے کے لیے جو قو تیں آپ کو بخشی گئیں ان کو دنیا پر ثابت کرنے کے لیے آپ نے متعدد بار للکارا۔مگر کوئی نہ تھا جو آپ کے مقابلہ پر آنے کی جرات کرتا۔۱۹۱۷ء میں آپ نے تمام دنیا کو مندرجہ ذیل الفاظ میں چیلنج دیا: میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد تمام دنیا کو پہینچ دیتا ہوں کہ اگر کوئی شخص ایسا ہے جسے اسلام کے مقابلہ میں اپنے مذہب کے سچا ہونے کا یقین ہے تو آئے اور آکر ہم سے مقابلہ کرے۔مجھے تجربہ کے ذریعہ ثابت ہو گیا ہے کہ اسلام ہی زندہ مذہب ہے اور کوئی مذہب اس کے مقابلہ پر نہیں ٹھہر سکتا۔کیونکہ خدا تعالیٰ ہماری دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے اور ایسے حالات میں قبول کرتا ہے جب کہ ظاہری سامان بالکل مخالف ہوتے ہیں اور یہی اسلام کے زندہ مذہب ہونے کی بہت بڑی علامت ہے۔اگر کسی کو شک و شبہ ہے تو آئے اور آزمائے۔ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔اگر کوئی ایسے لوگ ہیں جنہیں یقین ہے کہ ہمارا مذہب زندہ ہے تو آئیں۔ان کے ساتھ جو خدا کا تعلق اور محبت ہے اس کا ثبوت دیں۔اگر خدا کو ان سے محبت ہوگی تو وہ مقابلہ میں ضرور ان کی مدد اور تائید کرے گا۔میں ان کو چیلنج دیتا ہوں کہ مقابلہ پر آئیں تا کہ ثابت ہو کہ خدا کس کی مدد کرتا ہے اور کس کی دعا سنتا ہے۔آپ لوگوں کو چاہیے کہ اپنی طرف سے لوگوں کو اس مقابلہ کے لیے کھڑا کریں۔لیکن اس کے لیے یہ نہیں ہے کہ ہر ایک کھڑا ہوکر کہہ دے کہ میں مقابلہ کرتا ہوں۔بلکہ ان کو مقابلہ پر آنا چاہیے جو کسی مذہب یا فرقہ کے قائم مقام ہوں۔اس وقت دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ خدا کس کی دعا قبول کرتا ہے۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ہماری ہی دعا قبول ہوگی افسوس ہے کہ مختلف مذاہب کے بڑے لوگ اس مقابلہ پر آنے سے ڈرتے ہیں۔اگر وہ مقابلہ کیلئے نکلیں تو ان کو ایسی شکست نصیب ہوگی کہ پھر مقابلہ کرنے کی انہیں جرات ہی نہ رہے گی۔188