تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 316
تاریخ احمدیت۔جلد 23 316 سال 1965ء حضرت سیدہ نواب مبار که بیگم صاحبہ کا روح پرور پیغام حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کا یہ پیغام جلسہ سیرت حضرت فضل عمر منعقدہ مورخہ یکم دسمبر ۱۹۶۵ء بعد نماز مغرب مسجد مبارک ربوہ میں چوہدری عبدالعزیز صاحب مہتمم مقامی خدام الاحمدیہ مرکز یہ نے پڑھ کر سُنایا: "بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم ۲۷/۱۱/۱۹۶۵ ( بوقت ۴:۳۰ بجے شام ) برادران خدام الاحمدیہ السلام عليكم ورحمة الله وبركاته کیا لکھوں کیونکر لکھوں دل و دماغ نظر سب کمزور ہورہے ہیں۔وہ میرے سب سے زیادہ پیارے بھائی مجھے ہمیشہ بہت چاہنے والے بھائی ، میرے محسن بھائی عمر میں بہت کم فرق ہونے کے باوجود بچپن سے گودوں میں اُٹھانے والے میرے ناز بردار بھائی تھے۔آج ان سے جُدا ہوکر مجھے معلوم ہو رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت اماں جان ) کی بھی جُدائی دراصل گویا اب ہوئی ہے۔اب کون ہمارے بچپن کی باتیں کرے گا ! کون ان مشتر کہ یادوں کے ذکر تازہ کرے گا۔اور کون کرسکتا ہے؟ جنہوں نے وہ زمانہ دیکھا ہی نہیں وہ بجز کتابی علم اور ذہن میں نقشہ تصور میں لانے کے اور کیا سوچ اور کہہ سکتے ہیں۔گویا ہمارا زمانہ تو ختم ہو گیا اب آپ لوگوں کا ہے۔آپ نے ان کی شان دیکھی ان کے کام دیکھے ان کی برکات سے ان کی نصائح سے مستفید ہوئے۔ان کا جمال بھی دیکھا جلال بھی دیکھا۔یہ سب باتیں اظهر من الشمس ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ محمود کا نام محمود کے کام تا قیامت تمام دنیا میں سورج کی طرح روشن نظر آتے رہیں گے۔اور تاریخ عالم کا بہت نمایاں سنہری باب ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کی نصرت فضل و کرم اور رحمت سے جو کار ہائے نمایاں اس مُبارک وجود نے سرانجام دئے ، دنیا نے دیکھے اور دیکھتی رہے گی۔یہ تو سب کچھ سب پر ظاہر ہی ہے میں نے ان کی کم عمری کا زمانہ دیکھا۔آپ تو میں بچہ ہی تھی مگر یا د اس وقت کی بفضل خدا تازہ رہی اور ہے تیرہ چودہ سال کی عمر سے ایک نمایاں شخصیت نظر آنے لگی تھی۔سنجیدگی سے کتب کا مطالعہ بغور کرتے ، دینی