تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 305
تاریخ احمدیت۔جلد 23 305 سال 1965ء جب وہ حصہ بن جاتا تو پھر میں کہتا کہ اب اگلا حصہ بھی بنالو۔میں شاہد ہوں اس بات کا اور پورے یقین اور وثوق کے ساتھ آپ کو یہ بات بتارہا ہوں کہ آج تک مجھے (جو خرچ کرنے والا تھا) پتہ نہیں کہ یہ رقم کہاں سے آئی۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں۔سب آمد خزانہ میں جاتی ہے اور سب خرچ چیکوں کے ذریعہ ہوتا ہے لیکن کبھی ہم نے اس کو سمیٹا نہیں۔یہ کالج کی عمارت ہوسٹل اور دوسری جو بلڈنگیں ہیں وہ سب ملا کر ایک لاکھ مربع فٹ سے اوپر ہیں۔اور میرارف اندازہ ہے کہ ان پر چھ اور سات لاکھ روپیہ کے درمیان خرچ آیا ہے۔بعض دفعہ اچھے پڑھے لکھے غیر از جماعت دوست آتے ہیں اور ان سے بات چیت ہوتی ہے تو وہ یقین نہیں کرتے کہ اتنی تھوڑی رقم میں اتنی بڑی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ شاید ہم ان سے کوئی چالا کی کر رہے ہیں صحیح رقم بتانے کے لیے تیار نہیں۔تو جہاں تک ضروریات اور اسباب کا سوال ہے اللہ تعالیٰ نے ۴۴ ء سے ہی اس ادارے پر اپنا خاص فضل کیا ہے اور اپنی رحمتوں کے سائے میں اسے رکھا ہے۔وہ ہماری کمزوریوں کو اپنی مغفرت کی چادر سے ڈھانپ دیتا ہے اور نتائج محض اس کے فضل سے اچھے نکلتے ہیں۔میرے دل میں کبھی یہ خیال پیدا نہیں ہوا۔اور مجھے یقین ہے کہ میرے ساتھیوں کے دل میں بھی کبھی یہ خیال پیدا نہیں ہوا ہوگا کہ یہ سب کچھ ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے۔کیونکہ ہم اپنی کوششوں کو خوب جانتے ہیں اور ہم سے زیادہ ہمارا رب جانتا ہے جس ادارے پر اللہ تعالیٰ نے اس کثرت کے ساتھ اپنے فضل اور احسان کئے ہوں اس ادارہ کی طرف منسوب ہونے والے خواہ وہ پروفیسر ہوں یا طلبہ، ان سب کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر وقت اپنے رب کی حمد کرتے رہیں تا کہ اس کے فضلوں کا یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے۔جہاں تک میرے جذبات کا سوال ہے تو جو میرے جذبات پہلے جامعہ احمدیہ کے متعلق تھے وہی جذبات میرے دل میں اس ادارہ کے متعلق پیدا ہوئے اور میں نے اپنے دل کو ، اپنے دماغ کو اور اپنے جسم کو اس ادارہ کے لیے خدا کے حضور بطور وقف پیش کر دیا اور بڑی محبت اور پیار کے ساتھ اس کو چلانے کی کوشش کی۔اور ان طلباء کو