تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 298
تاریخ احمدیت۔جلد23 298 سال 1965ء ہوں۔اے محسن خدا ! ہمارے رحمان و رحیم خدا ہم کو تو فیق بخش۔آمین پھر خدا تعالیٰ ایک بار ہماری دستگیری کے لیے آگے بڑھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور اس مرحوم وجو د مبارک کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے ہماری کمزوریوں کے باوجود گر تے ہوؤوں کو تھام لیا، زخمی دلوں پر رحمت کے دستِ کرم سے مرہم لگا دیا اور ہم کو ایک مبارک ہاتھ پر جمع کر دیا۔اور اسی کے لخت جگر کی صورت میں گویا ان کو ہمیں واپس بخش دیا۔الحمد لله ربّ العالمین ہم سب کو دعاؤں میں لگے رہنا چاہیے اپنے مولا کے احسانِ عظیم کی یاد تازہ رکھنے کو اور اس کی نصرت مزید کے حصول کے لیے کہ یہ تیسر ا ظہور قدرت ثانیہ کا بہت بہت مبارک ثابت ہو اور اس عہد کو خدائے کریم بہت بابرکت بنادے۔اس سایہ رحمت کو بہت وسیع کر دے احمدیت ترقی کرے۔ہم وہ بن جائیں جو ہم کو بنا چاہیئے۔تمام عالم کے لئے ہم نیک نمونہ ہوں اور وہ مقصد پورا ہو جس کے لئے حضرت مسیح موعود تشریف لائے اور جس کے لئے ہمارے مرحوم محبوب خلیفہ ثانی نے عمر بھر اپنی جان کی بازی لگا کر اپنی تمام طاقتیں صرف کر دیں۔اسلام کا جھنڈا بلند ہو ، تو حید کا ڈنکا تمام عالم میں گونج اٹھے۔اب ہمارے خدا! ایسا ہی کر، ہم تیرے دامنِ کرم سے وابستہ رہیں اور تو ہم کو بھی نہ چھوڑ ، ہم کو اپنا ہی بنا لے۔آمین۔66 سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا تعلیم الاسلام کالج سے روح پر ور خطاب حضرت خلیفہ المسیح الثالث جامعہ احمدیہ کے اسا تذہ اور طلبہ کو بیش قیمت نصائح کرنے کے بعد ۲۵ نومبر ۱۹۶۵ء کو تعلیم الاسلام کالج میں بھی تشریف لے گئے اور اپنے روح پرور خطاب سے نوازا۔اس روز حضور از راہ شفقت اسا تذہ اور طلباء کی درخواست پر ٹھیک ۱۱:۳۰ بجے کالج میں تشریف لائے۔مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ حضور انور کالج میں تشریف لائے تھے۔اس کالج میں کہ جس کی ایک ایک اینٹ حضور کی نگرانی میں رکھی گئی تھی۔اُس کالج میں کہ جس کی تعمیر کے وقت گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ سے بے نیاز اور جاڑوں کی سرد یخ بستہ ہواؤں سے بے پروا ہو کر حضور چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے کام کی نگرانی خود فرمایا کرتے تھے۔اُس وقت حضور کی تشریف آوری سے کالج کی فضا پر عجیب سر و دو کیف کا عالم طاری تھا۔ہال کے سامنے اساتذہ اور طلباء کے بعض نمائندوں نے حضور کا استقبال کیا اور مصافحہ کا شرف