تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 297 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 297

تاریخ احمدیت۔جلد 23 297 سال 1965ء اسی طرح آپ نے ماہنامہ الفرقان کے ”فضل عمر نمبر کے لیے ایک مضمون سپرد قلم کرتے ہوئے تحریر فرمایا۔”جو اس نے عطا کی تھی وہ نعمت اسے پہنچی رویا کئے ہم ، اس کی امانت اسے پہنچی دنیوی محبت ، جسمانی تعلقات کے میل کی محبت، اغراض مشترکہ کی محبت سب فانی ہیں ، بجز ایک محبت کے جو خدائے باقی ولم یزل ولا یزال سے کی جائے۔اور اس میں بھی وہ خاص الخاص محبت جس کے لیے خود خدا تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی کو منتخب فرما کر اپنے لیے پچن لیتا ہے وہ سب سے بڑھ کر پائیدار اور اس کی رحمتوں کی جاذب بن جاتی ہے۔وہی محبت الہی ہمارے پیارے، ہمارے خلیفہ مصلح موعود کو ودیعت فرمائی گئی تھی۔انہوں نے اپنے مالک، اپنے خالق کے عشق میں، اس کے محبوب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے عشق، اس محبوب کے عاشق صادق مسیح موعود علیہ السلام کے عشق اور ان کے دین کے لئے تڑپ میں اپنے وجود کو فنافی اللہ کر دیا۔اس کی مخلوق سے بھی بہت محبت کی مگر محض اللہ۔تو خدائے کریم ان کی جانب جھک آیا اور ان کو اپنی جانب کھینچ لیا۔خدا تعالیٰ جس کو اپنی محبت کی کشش سے کھینچ لیتا ہے مخلوق خود بخود اس کی جانب کھینچی چلی آتی ہے۔یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ سعید روحوں میں اپنے آقا، اس مبارک وجود کی محبت اور تعلق اس قدر شدت سے پیدا ہوا کہ آج ایک ایک فرد جماعت ان کی جدائی سے تڑپ اٹھا ہے، بیقرار ہے، اشکبار ہے۔ان کو خدا تعالیٰ نے جب تک ان کے کام پورے ہوئے اس دنیا میں رکھا اور آخر وہ وقت آگیا کہ وہ اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اُٹھائے جائیں اور وہ و دود کریم خدا اپنی آغوش رحمت میں اٹھا کر لے گیا۔انا للہ و انا اليه راجعون ہم روتے ہیں وہ خوش ہیں۔وہ اپنی مراد کو پہنچ گئے۔ہم یہاں تڑپتے رہ گئے۔اب ان کی محبت ، ان کی خدمات ، ان کے احسانوں کا بدلہ یہی ہے کہ ہم آپ سب ان کے درجات کے بلند تر ہونے کی دعاؤں میں تازیست لگے رہیں اور نیکی و تقویٰ اور خدمات دینی میں صدق نیت سے ترقی کریں۔ہر قدم آگے بڑھے اور بڑھ کر کبھی پیچھے نہ ہٹے تا کہ بعد مر دن اور روز محشر میں ہم ان کے اور اپنے آقا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رو بروجن کی دعاؤں کا وہ ثمرہ تھے۔اور سب سے بڑھ کر اپنے محبوب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جن کی روح اقدس کی اسلام کی زبوں حالی کے لیے تڑپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہمارے درمیان مبعوث فرما کر ہم پر احسان فرمایا۔سرخرو ہوکر حاضر