تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 296
تاریخ احمدیت۔جلد 23 296 سال 1965ء دور ہیں ایسا سامان پیدا کر کہ یہ تیرے قریب ہو جائیں۔خدا تعالیٰ الہامات کے ذریعہ، کشوف کے ذریعہ اور رویا صالحہ کے ذریعہ ان کے اثر کے نفوذ کے سامان پیدا کر دیتا۔اور وہ مشرک بتوں کی پوجا کرنے والے۔سانپوں کی پرستش کرنے والے۔درختوں کی عبادت کرنے والے حیرت میں پڑ جاتے کہ ہم غیر اللہ کو پکارتے تو ہیں لیکن جواب کچھ نہیں پاتے اور ایک غیر مرئی ہستی کو یہ (مسلمان ) لوگ پکارتے ہیں تو نہ صرف یہ کہ ان کو جواب ملتا ہے بلکہ تقدیر کی تاریں کچھ اس طرح ہلتی ہیں کہ اگر وہ کہیں کہ ایسا ہو جائے تو ویسا ہو بھی جاتا ہے۔اس ہتھیار کے ساتھ انہوں نے ان مشرکین کو اپنی طرف کھینچا۔پھر بعض علاقے ان میں سے اسلام پر قائم رہے اور بعض علاقے جب بعد میں ان صوفیاء کے نقش قدم پر چلنے والے پیدا نہ ہوئے پھر شرک میں مبتلا ہو گئے۔میں نے خود ہوشیار پور میں ایک مسلمان بزرگ کا مزار دیکھا جہاں اس وقت شولنگ کی پوجا ہورہی تھی حالانکہ وہ تو حید کا گڑھ تھا پس انسان خدائے واحد کی طرف نمونہ کے ساتھ خدائے واحد کی طرف تقویٰ کے ساتھ ، خدائے واحد کی طرف تزکیہ نفس اور دعا کے ساتھ کھینچا جا سکتا ہے اس کے بغیر نہیں۔166 66 خلافت ثالثہ کے قیام پر حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کے جذبات تشکر حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ نے خلافت ثالثہ کے قیام پر جذبات تشکر کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: خلافت ثالثہ کا قیام جس احسن طریق پر ہوا جیسا فضل اور کرم خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر شر سے بچا کر نصرت فرما کر خیر کا در کھول دیا۔اس کے لیے جتنا بھی ہم شکر بجالائیں کم ہے۔ہماری کمزوریوں اور کوتاہیوں پر اس نے اپنی ستاری کی چادر ڈال دی اور ہماری مدد کو ہمارا مولا خود آگے بڑھا ورنہ ہم کیا چیز ہیں۔کمزور انسان کو ذراسی ٹھو کر بہت ہے۔اگر اس کی رحمت اور اس کا فضل شامل حال نہ ہو۔اس احسانِ عظیم کے لیے بھی ہم سب کو بہت شکر گزار ہونا اور رہنا چاہیئے اور درد دل کی دعاؤں سے ہرامر میں تعاون سے اطاعتِ کامل سے خلیفہ وقت کی مدد کرنا بھی ضروری ہے کہ ہم سب اپنا فرض اولین سمجھتے رہیں۔167