تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 286 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 286

تاریخ احمدیت۔جلد 23 286 سال 1965ء مصافحہ و معانقہ عطا فرمایا۔ملاقات کے بعد مجلس تحریک جدید کے اراکین، وکلاء اور نائب وکلاء کی وساطت سے تحریک جدید کے تمام کارکنوں کو اسلام کو چار دانگ عالم میں پھیلاتے چلے جانے کا پیغام دیا۔حضور نے فرمایا کہ عربی زبان میں نثر اور خاص طور پر نظم میں ہندی تلوار کی بہت تعریف کی گئی ہے۔اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ہاتھ میں ایک ہندی تلوار دی ہے اور وہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت۔حضور کا کام اب ہندی تلوار کی طرح اپنے جوہر دکھا رہا ہے۔ہم سب کا یہ فرض ہے کہ اس تلوار کی دھار کو کند نہ ہونے دیں اور اس بات کا اہتمام کرتے رہیں کہ ہمیشہ اسلام کی یہ ہندی تلوار اپنی کاٹ سے کفر کو نیست و نابود کرتی رہے اور اس کے ذریعہ اسلام کا جھنڈا بلند سے بلند تر لہرا تار ہے۔حضور نے فرمایا کہ اس وقت تو میرا یہی مختصر سا پیغام ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر چہ الفاظ کے لحاظ سے تو یہ پیغام مختصر ہے لیکن معنوی حیثیت سے یہ ہر احمدی کی ساری زندگی پر حاوی پروگرام کا خاکہ ہے آخر احمدی اپنی زندگیوں کا اور کیا مصرف چاہتے ہیں۔ان کا یہی تو بہترین مصرف ہے کہ ان کا ہر ہر لمحہ اسلام کی تبلیغ میں گزارا جائے۔اور دنیا کے ہر چہار اطراف بھٹکتی ہوئی روحوں کو اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر لا ڈالا جائے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا اولین خطبہ جمعہ لمصله قدرت ثانیہ کے مظہر ثالث سیدنا حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ امسح الثالث نے ۱۲ نومبر ۱۹۶۵ء کو اپنے عہد خلافت کا پہلا خطبہ جمعہ مسجد مبارک میں ارشاد فرمایا۔حضور کا منشاء مبارک تو ایک اور مضمون بیان کرنے کا تھا مگرا نومبر کی شب کو ۱۹۱۴ء کی الفضل کے مطالعہ کے دوران اللہ تعالیٰ نے آپ کی توجہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی المصلح الموعود کی ایک تقریر کے اقتباس کی طرف مبذول فرمائی۔اس اقتباس میں ایک زبر دست پیشگوئی کا ذکر تھا جو چند دن پیشتر پر امن ماحول میں خلافت ثالثہ کے قیام سے پوری ہوئی تھی۔اس پر آپ نے ارادہ فرمایا کہ دوسرے مضمون کو چھوڑ کر اس پیشگوئی کے ظہور کا تذکرہ کیا جائے جو صداقت احمدیت کا تازہ نشان تھا۔چنانچہ حضور نے سب سے پہلے اس پیشگوئی کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کس طرح انجمن کے بعض عمائدین نے حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد یکے بعد دیگرے تین موقف اختیار پہلے کہا جماعت احمدیہ میں خلافت ہونی ہی نہیں چاہیے پھر یہ رائے دی کہ کوئی شخص خلیفہ مقرر